صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 150
صحیح البخاری جلد ۱۹ ۱۵۰ ۹۱ - كتاب التعبير بائیں سب طرف دیکھا مگر کچھ نظر نہ آیا۔آخر آپ نے اوپر نظر اُٹھائی تو کیا دیکھتے ہیں کہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک عظیم الشان گرسی پر وہی فرشتہ بیٹھا ہے جو غارِ حرا میں آپ کو نظر آیا تھا۔آپ نے یہ نظارہ دیکھا تو سہم گئے اور گھبرائے ہوئے جلدی جلدی گھر آئے اور حضرت خدیجہ سے فرمایا: دَرُوني ! دَرُوني ! مجھ پر کوئی کپڑا ڈھانک دو۔“ خدیجہ نے جلدی سے کپڑا اوڑھا دیا اور آپ لیٹ گئے۔آپ کا لیٹنا تھا کہ ایک پر جلال آواز آپ کے کانوں میں آئی: پایها المدقره قُم فَانْذِرُ وَ رَبَّكَ فَكَيّرُ وَ ثِيَابَكَ فَظهر و الرجز فَاهْجُز یعنی اے چادر میں لیٹے ہوئے شخص ! اُٹھ کھڑا ہو۔اور لوگوں کو خُدا کے نام پر بیدار کر۔اُٹھ اور اپنے رب کی بڑائی کے گیت گا اور اپنے نفس کو پاک و صاف کر اور ہر قسم کے شرک سے پر ہیز کر۔“اس کے بعد وحی کا سلسلہ برابر جاری ہو گیا۔“ (سیرت خاتم النبیین ملی ، صفحہ ۱۳۵، ۱۳۶ نیو ایڈیشن) بَاب ٢ : رُؤْيَا الصَّالِحِينَ نیک لوگوں کا خواب وَقَوْلُهُ تَعَالَى لَقَدْ صَدَقَ اللهُ رَسُولَهُ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اللہ نے اپنے رسول کو الرويا بِالْحَقِّ لَتَدخُلُنَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اس رویا کا مضمون پوری طرح سچا کر کے دکھا دیا إن شَاءَ اللهُ مِنينَ مُحلِقِينَ رُءُوسَكُمْ وَ جس میں یہ بیان تھا کہ تم مسجد حرام میں اگر خدا مُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ فَعَلِمَ مَا لَم نے چاہا تو امن کے ساتھ ضرور داخل ہوگے تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ فَتْحًا (اور) اپنے سر پوری طرح منڈوائے ہوئے یا چھوٹے بال کروائے ہوئے ہوگے کسی سے نہ قريبا (الفتح : ٢٨) b ڈرتے ہوگے سو اللہ نے وہ کچھ جان لیا جو تم نہیں جانتے تھے اور اس نے اس کے علاوہ قریب ہی ایک اور فتح مقدر کر دی۔٦٩٨٣: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۲۹۸۳: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔