صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 149 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 149

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۴۹ ۹۱ - كتاب التعبير ہمیں پہنچی ہیں۔یہ کہہ کر اس روایت کی کوئی سند نہ بیان کرنے سے ان کی مراد یہی ہے کہ یہ غیر مستند روایتیں ہیں۔“ (صحیح البخاری، ترجمه و شرح، کتاب بدء الوحی ، باب ۳ صفحه ۸ تا ۱۳) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے فرماتے ہیں: اس کے بعد وحی کا سلسلہ رُک گیا۔اور ایک عرصہ تک جس کا اندازہ ابنِ عباس کی ایک روایت کے مطابق چالیس یوم بیان ہوا ہے۔یہ سلسلہ رکا رہا۔اس زمانہ کو فترة کا زمانہ کہتے ہیں۔گویا آفتاب رسالت کی روشنی ایک دفعہ نظر آئی اور پھر غائب ہو گئی۔آپ کے لبہائے تشنہ پر بارش کا ایک چھینٹا پڑا اور پھر بادل پھٹ گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ایام سخت گھبر اہٹ اور بے چینی کی حالت میں گزارے۔حتی کہ حدیث میں آتا ہے کہ ان ایام میں آپ کو اتنی گھبراہٹ تھی کہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ آپ کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اور ارادہ کیا کہ وہاں سے اپنے آپ کو گرا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیں مگر ہر ایسے موقع پر الہی فرشتہ آواز دیتا۔”دیکھو محمد ایسانہ کرو تم واقعی اللہ کے رسول ہو۔“ یہ آواز سُن کر آپ رُک جاتے مگر پھر بے چینی اور اضطراب کی حالت پیدا ہوتی تو بے اختیار ہو کر پھر اپنے آپ کو ہلاک کر دینے کے لیے تیار ہو جاتے۔بھی ہو سکتا ہے کہ مندرجہ بالا حدیث کے الفاظ میں ظاہری معنے مُراد نہ ہوں اور اپنے آپ کو بلندی سے گرا کر زندگی کا خاتمہ کر دینے کا یہ مطلب ہو کہ یہ سب نظارہ خدا کی طرف سے بطور امتحان کے ہو، اس لیے آپ نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے نفس کو مزید گرا کر اور پست و مغلوب کر کے گویا خدا کی راہ میں اسے بالکل ہی مار دیں۔اس صورت میں پہاڑ پر سے اپنے آپ کو رگر ادینے کے الفاظ گویا بطور استعارہ کے سمجھے جائیں گے۔بہر حال خواہ کوئی بھی معنے ہوں آپ کے لیے یہ دن بڑی کش مکش کے دن تھے اور اسی کش مکش کی حالت میں آپ ایک دن غارِ حرا سے گھر کی طرف واپس آرہے تھے کہ اچانک ایک آواز آئی۔گویا کوئی شخص آپ کو مخاطب کر رہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے پیچھے، دائیں