صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 148
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۴۸ ۹۱ - كتاب التعبير رنگ میں ہوتا ہے ، نہ حقیقی طور پر۔طیبی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہی کہا ہے۔(عمدۃ القاری جزء اول صفحه ۵۷) پس جس طرح جبرائیل کا آسمان سے اتر نا عام متعارف معنوں میں نہیں، اسی طرح جبرائیلی تجلی میں یہ وقفہ پڑنا بھی اپنے حقیقی معنوں میں نہیں۔بلکہ اس روح القدس کی روشنی ہر وقت اور ہر حال میں انبیاء کے شامل حال ہوتی ہے اور ان کے اندر سکونت رکھتی ہے۔یہی مذہب ہے تمام اہل اللہ کا۔اس مضمون کی تفصیل کے لیے دیکھئے ” آئینہ کمالات اسلام “۔جہاں ضرورت ملائکہ اور ان کی تجلیات کے متعلق بحث کی گئی ہے وہاں اس اعتراض کا بھی کامل جواب دیا گیا ہے کہ جب روح القدس انبیاء سے جدا نہیں ہو تا تو پھر وہ بعض دفعہ غلطیاں کیوں کرتے رہتے ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۷۲ تا ۱۲۶) زمانہ فترت کے متعلق علماء نے یہ بحث بھی اُٹھائی ہے کہ سلسلہ وحی میں کتنی دیر توقف رہا۔امام ابن حجر مختلف روایتیں بیان کر کے آخر میں حضرت ابن عباس کی قابل اعتماد روایت کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ چند دن کا وقفہ تھا۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۷) اور یہ صحیح ہے۔امام بخاری نے کتاب الرؤیا میں بھی زہری سے روایت کرتے ہوئے یہی واقعہ غارِ حراء کا بیان کیا ہے اور آخر میں ان کا یہ قول نقل کیا ہے: فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدًا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ تُؤْوسِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَى يُلْقِيَ مِنْهُ نَفْسَهُ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إنَّكَ رَسُولُ اللهِ حَقًا۔(بخارى، كتاب التعبير، باب أوّل ما بدی به رسول الله من الوحی، روایت نمبر ۶۹۸۲) یعنی ہمیں یہ خبر بھی پہنچی ہے کہ آپ کو اس وقفہ سے اس قدر غم ہوا کہ آپ مارے غم کے اونچے اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ کر اپنے آپ کو گرانا چاہتے تھے اور جبرائیل آکر کہا: محمد علی تم تم واقعہ میں اللہ کے رسول ہو۔یہ قصہ حضرت عائشہ کی مشار الیہ مستند روایت کے سامنے کچھ وقعت نہیں رکھتا۔چنانچہ خود زہری بھی اس کو بے بنیاد قصہ سمجھتے ہیں جیسا کہ ان کے ان الفاظ سے واضح ہوتا ہے : قیما بلغنا یعنی منجملہ ان روایتوں کے جو