صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 147
صحیح البخاری جلد ۱۹ کے ۱۴ ۹۱ - كتاب التعبير شریعت ہے جو حضرت موسی پر نازل ہوا تھا۔ناموس کے معنے شریعت کے بھی ہوتے ہیں۔(لسان العرب غس) ورقہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا، حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر نہیں کیا کیونکہ استثناء باب ۱۸ ( آیت (۱۸) میں نبی موعود کے متعلق جو پیشگوئی ہے اس میں صاف الفاظ میں فرمایا گیا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ کی مانند ہو گا اور بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل میں سے پیدا ہو گا۔وہ اپنی نہیں کہے گا بلکہ جو سنے گا وہ کہے گا۔وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحَى يُوحَى ) (النجم : ۱۱) اور حضرت عیسی صاحب شریعت نبی نہ تھے ، اس لئے ذکر نہ کیا۔ورقہ بن نوفل کے پاس جانے کی جو غرض و غایت ہم نے بیان کی ہے اس کا ذکر امام ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اپنی کتاب فتح الباری میں کیا ہے، ملاحظہ ہو جلد اول صفحه ۳۴ شرح حدیث مذکور اور علامہ عینی نے بھی۔(عمدۃ القاری جلد اول صفحه ۵۴) وَفَتَرَ الوَحی: زمانہ فترت سے مراد وہ زمانہ ہے جس میں جبرائیل کی خاص تجلی جس کا تعلق قرآن مجید کے نزول کے ساتھ ہے۔ایک وقت تک موقوف رہی۔ورنہ یوں تو روح القدس جو انبیاء اور اولیاء اللہ کی نئی زندگی کے لئے بطور روح رواں کے ہوتا ہے، ایک لحظہ کے لئے بھی ان سے جدا نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادہ کی دو قسم کی تجلیات اس کے خاص بندوں پر ہوتی ہیں۔ایک تجلی تو ہر وقت ان کے ارادوں میں روح القدس کے ذریعے سے کام کرتی رہتی ہے اور ایک تجلی جبرائیل کے ذریعے سے تمثلی رنگ میں پوری قوت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے اور اس جبرائیلی تجلی میں جو عارضی وقفہ ہوتا ہے، اس کا نام زمانہ فترت ہے اور اس وقفہ سے یہ مراد نہیں کہ جبرائیل کسی وقت آسمان سے اترتا ہے اور پھر انبیاء کو چھوڑ کر آسمان پر چلا جاتا ہے۔جبرائیل اسی طرح اپنے مقام پر رہ کر اللہ تعالیٰ کی مشیت کی تجلیات ہر وقت اور ہر جگہ پہنچا تا رہتا ہے، جس طرح سورج پانی میں نظر آتا ہے مگر در حقیقت سورج نیچے نہیں اترتا۔اسی طرح جبرائیل کا نزول تمثلی