صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 146 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 146

صحیح البخاری جلد ۱۹ ۱۴۶ ۹۱ - كتاب التعبير آپ کے پاس فرشتے آتے ہیں یا جن بھوت۔بلکہ اس لئے کہ وہ عیسائی تھے اور اس نبی“ کے آنے کے متعلق قدیم نوشتوں میں پیشگوئیاں تھیں اور عیسائیوں اور یہودیوں کو اُس کی آمد کا انتظار تھا جیسا کہ ہم آگے چل کر بتائیں گے اور تورات و انجیل میں اُس کی علامتیں بھی موجود تھیں اور چونکہ ورقہ بن نوفل ان کتابوں کے عالم تھے ، اس لئے ان کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لے گئیں تا آنے والے نبی کے متعلق خیالات معلوم ہوں اور ان کو بھی تصدیق کا موقع ملے۔چنانچہ انہوں نے فور آشناخت کر لیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکالے جانے کے متعلق پیشگوئی کا تذکرہ بھی کر دیا جو یسعیاہ نبی نے عرب کے متعلق الہامی کلام کے عنوان کے ماتحت سنائی تھی: ”ارے اے بانجھ تو جو نہیں جنتی تھی خوشی سے للکار۔تو جو حاملہ نہ ہوتی تھی وجد کر کے گا اور خوشی سے چلا۔کیونکہ خداوند فرماتا ہے کہ بیکس چھوڑی ہوئی (ہاجرہ) کی اولا د خصم والی (سارہ) کی اولاد سے زیادہ ہے۔تیرے سب فرزند بھی خداوند سے تعلیم پائیں گے اور تیرے فرزندوں کی سلامتی کامل ہو گی۔تو راستبازی سے پائیدار ہو جائے گی۔“ (یسعیاہ باب ۵۴) سلع ( مدینہ کی پہاڑی کا نام ہے) کے بسنے والے ایک گیت گائیں گے۔پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے للکاریں گے۔وہ خداوند کا جلال ظاہر کریں گے۔۔۔(یسعیاہ باب ۴۲ آیت ۱۲، ۱۳) 66 عرب کے صحرا میں تم رات کو کاٹو گے۔اے ودانیو ( یعنی اہل یمن) کے قافلو ! اے تیا ( یعنی مدینہ) کی سر زمین کے باشند و روٹی لے کر بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو۔کیونکہ وہ تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھینچی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدت سے بھاگے ہیں۔“ (یسعیاہ باب ۲۱ آیت ۱۳-۱۵) غرض اس قسم کی بہت سی پیشگوئیاں اس نبی کے متعلق ملتی تھیں اور اُس وقت یہود اور نصاری دونوں کو انتظار تھا اور ورقہ چونکہ رشتہ دار تھے ، عالم تھے، عربی اور عبرانی دونوں جانتے تھے ، انہوں نے سن کر کہا: یہ وہی ناموس یعنی حامل