صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 145 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 145

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۴۵ ۹۱ - كتاب التعبير کامل احساس تھا جس کے ساتھ ہزاروں مشکلات لگی ہوتی ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی اپنے متعلق کئی قسم کے اندیشوں کا ذکر کرتے ہیں کہ میں فصیح نہیں ہوں۔(الشعراء: (۱۴) دراصل یہ بہانے نہیں بلکہ کامل عاجزی و تواضع کا اظہار ہے۔اور نیز یہ خواہش ہے کہ وہ گوشہ تنہائی سے نکل کر دنیا میں دوبارہ نہیں آنا چاہتے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی آپ کا مطلب سمجھ کر کہتی ہیں: حلّا واللہ مَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا- یعنی ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔اللہ کبھی بھی آپ کو رسوانہ کرے گا۔آپ کامیاب ہوں گے۔خیزی وہ ذلت ورسوائی ہے جو انسان کو ناکامی سے ہوتی ہے۔۔چوتھی بات اس حدیث سے اس عظیم الشان شہادت کا پتہ چلتا ہے جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہمارے لئے چھوڑ گئی ہیں۔وہ اس گھبراہٹ کے وقت بے ساختہ بغیر کسی تصنع کے پورے یقین کے ساتھ کہتی ہیں: خَلًا وَاللهِ مَا يُخْزِيكَ الله أَبَدًا۔یعنی یہ کبھی نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ مکارم اخلاق سے متصف ہیں۔آپ بنی نوع انسان کے ہمدرد ہیں۔آپ میں وہ وہ خوبیاں ہیں جو آج کل معدوم ہیں۔حضرت خدیجہ کی یہ شہادت معمولی شہادت نہیں۔یہ اس رفیق زندگی کی شہادت ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی واقف حال راز دان نہیں ہو سکتا۔حضرت خدیجہ کی یہ مراد ہے کہ جس شخص کے مکارم اخلاق کی وجہ سے لوگ پہلے ہی گرویدہ ہوں اور جو الآمین “ کے لقب سے مشہور ہو وہ ناکام کیسے ہو گا ؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بعد میں ورقہ بن نوفل کے قول پر یہ تعجب ہوتا ہے: أَو مُخرِ جی ھند کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے ! حضرت خدیجہ کا قول اور آپ کا تعجب ایک ہی قسم کے احساس کے ماتحت ہے اور یہ آپ کی بے لوث اور مکارم اخلاق سے بھری ہوئی زندگی پر دلالت کرتا ہے۔آپ پہلے ہی سے ہمدرد بنی نوع انسان تھے۔فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ : حضرت خدیجه ورقہ بن نوفل کے پاس آپ کو اس لئے نہیں لے گئی تھیں کہ نعوذ باللہ آپ کو کوئی شبہ تھا اور ورقہ سے پوچھنا تھا کہ آیا