صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 144 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 144

صحیح البخاری جلد ۱۶ م ۱۴ ۹ - كتاب التعبير کو گلے لگا کر زور سے بھینچا گیا۔اس نظارے کا تعلق واقعات کے ساتھ یہ ہے کہ آپ نے الہی مشیت کی زور دار تجلیات کے ماتحت بے بس ہو کر نبوت کا اعلان کیا تھا۔یہ نہیں کہ آپ نے اس کے لئے کوئی پہلے سے تیاری کی تھی۔آپ گوشہ تنہائی کو چھوڑنے کے لئے یو نہی اپنی مرضی سے تیار نہیں ہوئے۔قرآن مجید نے بھی اس مضمون کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: قُل لَّوْ شَاءَ اللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرِيكُمْ فَقَد لَبِثْتُ فِيْكُمُ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ ، أَفَلَا تَعْقِلُونَ (يونس: ۱۷) کہو! اگر اللہ کی مشیت نہ ہوتی تو میں تمہارے سامنے یہ کبھی نہ پڑھتا اور نہ وہ ( اللہ ) تمہیں اس کی خبر دیتا۔میں تم میں اس سے پہلے بھی ایک لمبا عرصہ رہ چکا ہوں۔تم عقل سے کیوں کام نہیں لیتے۔ان آیات سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کی زور دار تجلی نہ ہوتی تو آنحضرت صلی ا لم قطعاً منصب نبوت کے اٹھانے کے لئے تیار نہ تھے۔یورپ کے عیسائی علماء نے ( یہ ثابت کرنے کے لئے ) بہت ہاتھ پاؤں مارے ہیں کہ یہ نظارے دماغی بیماری کا نتیجہ تھے مگر جو نظارے دماغی خلل کا نتیجہ ہوتے ہیں، واقعات ان کی تصدیق نہیں کرتے۔اِقرا وَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ O (العلق : ۴) میں ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جو ایسی عظمت کے ساتھ پوری ہوئی کہ یہی عیسائی آج تک اس کی عظمت سے حیران ہیں۔اس وحی کا ماحصل یہ ہے: تم پڑھو۔اس حکم کی تعمیل میں تمہارا اللہ تم سے نہایت کریمانہ سلوک کرنے والا ہے۔چنانچہ دنیا جانتی ہے کہ واقعات نے ہر پہلو سے اس کی تصدیق کی۔لَقَد خَشِيتُ عَلَى نَفْسِى: مجھے تو اپنی جان کا اندیشہ ہو گیا تھا۔اس کا ایک تو سیدھا سادہ یہ مفہوم ہے کہ اس رعبناک نظارے سے یعنی فرشتہ کے دبانے سے مجھے یہ خوف ہو گیا تھا کہ میری جان چلی اور در حقیقت بعض وقت وحی کی جلالی تجلی سے یہی حالت ہوتی ہے اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو یہ واقعہ بتلا کر آپ یہ فرماتے ہیں: مجھے اب اپنے متعلق فکر پڑ گئی ہے کہ ایک بہت ہی بڑا بوجھ مجھ پر ڈالا جارہا ہے۔آپ کو عہدہ رسالت کی نازک ذمہ واریوں کا