صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 143 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 143

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۴۳ ۹۱ - كتاب التعبير تھا۔(تاريخ الأمم والملوك للطبري ذكر باقى الأخبار من الكائن من أمر رسول الله قبل أن ينبأ، الجزء الثانی) اور تمام اولیاء اور انبیاء کے ساتھ یہی سنت الہی ہے کہ خدا تعالیٰ ایک لمبے عرصہ کی تجلیوں سے آہستہ آہستہ ان کو کامل یقین تک پہنچاتا ہے جس کے بعد شک کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محض اس لئے انکار کیا کہ آپ سمجھتے تھے کہ اقرا سے کیا مراد ہے اور کس قسم کی ذمہ داری کے بار اٹھانے کے لئے آپ کو کہا گیا ہے۔انبیاء معرفت الہی میں اس مقام پر کھڑے ہوتے ہیں جو سراسر تواضع و تقویٰ و خشیت کا مقام ہے وہ بارِ رسالت کو اٹھانے سے ڈرتے ہیں اور اپنے گوشہ تنہائی سے نکلنا نہیں چاہتے۔وہ اسی وقت نکلتے ہیں جب الہی مشیت کی تجلیات اور بار بار کے صریح حکموں کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی عاجزانہ معذرتیں کیں اور حضرت ہارون نے اپنے بھائی کو اس منصب نبوت پر کھڑا کرنے کے لئے عرض کیا۔(الشعراء: ۱۴) غَطَنِى حَتَّى بَلَغَ مِنِى الْجُهْدُ: لفظ الجهد “ کی فتح سے بھی آتا ہے۔جس کے معانی ہیں: اپنی ساری طاقت صرف کر دی۔لیکن رفع کے ساتھ جو روایت آتی ہے وہ زیادہ قرین قیاس ہے۔اس کے معنے ہیں مجھے اتنا دبایا کہ میری طاقت اپنے انتہاء کو پہنچ گئی یعنی تاب مقابلہ نہ رہی۔(عمدۃ القاری جزء اول صفحہ ۵۷) اور یہ حالت خاص کر اس وقت ہوتی ہے ، جب انسان ملائکہ کی بات ماننے سے انکار کرتا ہے۔یعنی مشیت الہی کے مقابل بشری ارادہ کچھ نہ کچھ کام کر رہا ہوتا ہے۔ملائکہ کی اس قسم کی تحکمانہ تجلی خواب میں ہوتی ہے اور کشف میں بھی اور عین بیداری میں بھی۔ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن زبیر کی ایک روایت نقل کی ہے کہ یہ واقعہ نیند میں ہوا۔(تاریخ الأمم والملوك، ذكر الخبر عما كان من أمر نبي الله۔۔۔بارسال جبریل الیه بوحيه الجزء الثانی)۔امام بخاری نے رؤیت کا لفظ علی الاطلاق رکھا ہے جو کشف پر بھی بولا جاتا ہے اور خواب پر بھی۔بہر حال اس مخصوص تجلی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم