صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 142 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 142

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۴۲ ۹ - كتاب التعبير ایسے مجاہدات سے آپ کی پاک فطرت انکار کرتی تھی جو اس غرض سے ہوں کہ کوئی الہام ہو جائے یا کشف ہی دیکھ لے یا یہ کہ وحی و نبوت کا مقام حاصل ہو۔قرآن مجید بھی اسی امر کی طرف اشارہ فرماتا ہے: وَمَا كُنْتَ تَرْجُوا أَنْ يُلْقَى إلَيْكَ الْكِتَبُ إِلَّا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّكَ (القصص:۸۷) یعنی تو یہ توقع نہ رکھتا تھا کہ کتاب تجھے دی جائے۔یہ تو تیرے رب کی رحمت ہوئی۔مَا أَنَا بِقَارِی : اور وحی لانے والے فرشتے کو بھی آپ یہی جواب دیتے ہیں: مَا أَنَا بِقَارِی میں ہرگز نہیں پڑھوں گا۔”ما“ حرفِ نافیہ ”ب“ کے ساتھ قطعی انکار کے لئے آتا ہے۔جیسے قرآن مجید میں آتا ہے: وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الَّذِينَ آمَنُوا (ھود: ۳۰) یعنی میں ہر گز اپنے مسلمان ساتھیوں کو دھتکارنے کا نہیں۔کلمات وحی کا مفہوم وہ شخص خوب سمجھتا ہے جس پر وحی نازل ہو رہی ہو۔اقرا سے مراد اعلانِ رسالت ہے جس کی تشریح لفظ قرآن کر رہا ہے۔اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک لمحہ کے لئے بھی وہم نہیں گذرا کہ یہ تجلی ربانی ہے یا کیا؟ انبیاء کی ابتدائی زندگی میں ہی ان تجلیات کا سلسلہ شروع ہو کر آہستہ آہستہ کمال تک پہنچتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا خارق عادت معاملہ ہمیشہ سے د سے دیکھتے چلے آتے ہیں۔ایک معمولی انسان جو سچی خواب دیکھتا ہے اس کو تو ایسے خواب کے متعلق یقین ہوتا ہے کہ یہ نظارہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے نہ کسی خیال کا نتیجہ۔مگر یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پڑھنے سے انکار کیا تو اس خیال سے کیا کہ آپ کو علم نہ تھا کہ یہ رحمانی وحی ، یہ احمقانہ خیال ہے۔ورقہ بن نوفل جو عیسائی تھا اس نے تو سارا واقعہ سن کر بے ساختہ کہہ دیا کہ یہ تو وہی راز دار ہے جو حضرت موسی پر نازل ہوا تھا۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن پر یہ روحانی کیفیت گزرا کرتی تھیں وہ اس راز سے نا آشنا ہوں! یہ بات کس قدر دور از قیاس ہے اور علاوہ ازیں یہ تجلی ربانی پہلی بار نہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھنے میں غلطی ہوتی یا کوئی شبہ پڑتا بلکہ جیسا کہ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے ؛ بیس سال سے پیشتر یہ سلسلہ رؤیا و کشوف و تجلیات وحی کا شروع