صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 141
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۴۱ ۹۱ - كتاب التعبير کامل معرفت روحانی مشاہدات اور تجلیات وحی کے ذریعے سے ہی ہوتی ہے۔ محض عقل اس مقام معرفت تک قطعاً نہیں پہنچا سکتی۔ عقل تو اللہ تعالیٰ کی ہستی کے متعلق صرف ” ہونا چاہیے“ کے مقام تک ہمیں پہنچاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ہمارے سامنے بہت سے احتمالات پیش کر دیتی ہے۔ عقل کا یہ نقص وحی الہی سے دور ہوتا ہے۔ عقل اور وحی میں آپس میں کوئی تضاد نہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کے لئے بطور محمد کے ہیں۔ عقل کا تعلق زمین سے ہے اور وحی کا تعلق آسمان سے اور دونوں کے اتصال سے کامل نور اسی طرح پیدا ہوتا ہے جس طرح زمینی آنکھ کی بینائی میں آسمانی سورج کی روشنی سے نور پیدا ہوتا ہے۔ وحی کے بغیر الحق یعنی کامل یقین ہر گز حاصل نہیں ہو سکتا۔ (اس بحث کی تفصیل ملاحظہ ہو: براہین احمدیہ حصہ دوم حاشیہ نمبر ۴ صفحه ۷۸) اس جگہ الحق کی مناسبت کی وجہ سے یہ ذکر کر دینا بھی خالی از فائدہ نہ ہو گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ جب وہ روح حق آئے گی تو ساری سچائی لائے گی۔ (یوحنا۔ باب ۱۶، آیت ۷ تا ۱۶ ) تیسری بات اس حدیث سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام اغراض نفسانیہ سے الگ ہو کر محض اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے یہ عبادت کیا کرتے تھے۔ یہ خواہش قطع نہ تھی کہ آپ کو وحی و ، کو وحی و مکاشفہ ہو یا ہو یا نبوت کا مقام ملے اور نہ یہ مقام مجاہدات سے ملا کرتا ہے۔ اس بات پر جیسا کہ حُبَّبَ إِلَيْهِ الْخَلاء کے الفاظ دلالت کرتے ہیں اور وہ الفاظ بھی نہایت وضاحت سے دلالت کرتے ہیں جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب التفسیر میں اور امام مسلم نے کتاب الایمان میں نقل کئے ہیں۔ یعنی حتی تجته الحق ۔۔۔۔ یعنی یکا یک بغیر توقع کے حق آپ کے پاس آیا۔ (بخاری، کتاب التفسیر، سورة إقرأ باسم ربك الذي خلق۔ روایت نمبر ۴۹۵۴) (مسلم، کتاب الإيمان، باب بدء الوحي الى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے ہم معنی یہ الفاظ ہیں: أَتَاهُ بَغْتَةً۔ (عمدة القاری جزء اول صفحه ۵۴)