صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 140 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 140

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۴۰ ۹۱ - كتاب التعبير اعلیٰ تجلیات ظاہر ہوتی ہیں اور یہ طبعی استعداد بیچ کے طور پر انسان میں موجود ہے۔اسی لئے ہر انسان نیک ہو یا بد، کوئی نہ کوئی سچی خواب دیکھ لیتا ہے تا اس کے لئے نبوت کی حقیقت کا سمجھنا مشکل نہ ہو۔کیونکہ جس آنکھ میں نور ہوتا ہے وہی آنکھ نور آفتاب کو بھی دیکھتی ہے اور اس کی کیفیت کو بھی تصور میں لا سکتی ہے۔غرض خواب کی قابلیت بطور ایک طبعی مبدء اور مصدر کے ہے اور اسی وجہ سے احادیث نبویہ میں سچے خواب کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیا گیا ہے۔( صحیح البخاری، کتاب التعبير، باب الرؤيا الصالحة جزء من ستة وأربعين جزء من النبوۃ: ۶۹۸۹) اور حضرت عائشہ نے بھی یہاں اسی وجہ سے آپ کی خوابوں کو وحی میں شامل کیا ہے۔۲۔دوسری بات اس حدیث سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی خالص محبت تھی اور یہ محبت آپ کے دل میں فطرتا تھی جو دن بدن ترقی کرتی گئی۔آخر اس خالص محبت کی وجہ سے مجبور ہو کر آپ نے دنیا کے تعلقات سے کنارہ کشی کی اور آپ غارِ حرا میں جو مکہ سے تین میل کے فاصلہ پر ہے گوشہ نشین ہو گئے اور وہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہنے لگے۔حُببَ إِلَيْهِ الْخَلاء بدء الوحی، روایت نمبر ۳) میں جو صیغہ مجہول استعمال کیا گیا ہے ، وہ یہی راز بتلانے کے لئے ہے کہ یہ محبت اپنے اختیار کی بات نہ تھی۔کسی بالائی طاقت نے آپ کا منہ دنیا سے موڑ دیا تھا اور تمام انبیاء کے متعلق یہی سنت الہی چلی آتی ہے۔فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ : تحتت کے معنی عبادت کرنا۔قرآن مجید سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کسی معین شکل و صورت کی عبادت سے متعارف نہ تھے۔جیسا کہ فرمایا: مَا كُنتَ تَدْرِى مَا الْكِتَبُ وَلَا الْإِيمَانُ (الشوری:۵۳) یعنی تجھے عبادت کا کوئی طریق معلوم نہ تھا۔اس لئے آپ اپنی زبان میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے تھے۔دعا عبادت کا اصل مغز اور روح ہے۔وَهُوَ التَّعَبُدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ: چند گنتی کی راتیں عبادت کیا کرتے تھے۔حَتَّی جَاءَهُ الحق سے مراد ایک تو کامل معرفت ہے۔اللہ تعالیٰ کے متعلق