صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 139
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۳۹ ۹۱ - كتاب التعبير لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ فَالِقُ کے مارے صبح کو نکلے کہ تا اونچے پہاڑوں کی الإصباح (الأنعام: ۹۷) ضَوْءُ الشَّمْس چوٹیوں سے اپنے تئیں گرا کر ہلاک کر دیں مگر بِالنَّهَارِ وَضَوْءُ الْقَمَرِ بِاللَّيْلِ۔جب کبھی کسی پہاڑ کی چوٹی پر اس غرض سے چڑھتے کہ اپنے آپ کو اس سے گرادیں تو جبریل آپ کے سامنے ظاہر ہوتے اور کہتے : محمد ! آپ سچ سچ اللہ کے رسول ہیں۔اس سے آپ کے دل کو سکون حاصل ہوتا اور آپ کا نفس قرار پاتا اور آپ واپس لوٹ آتے۔پھر جب وحی دیر تک موقوف رہتی تو اس ارادے سے صبح کو نکلتے۔جب پہاڑ کی چوٹی پر چڑھتے تو جبریل آپ کے سامنے ظاہر ہوتے اور آپ سے ویسے ہی کہتے۔حضرت ابن عباس نے کہا: (سورۃ الانعام میں) جو فرمایا ہے فالِقُ الْإِصْباح تو اس سے دن کو سورج کی روشنی اور رات کو چاند کی روشنی مراد ہے۔أطرافه ۳ ۳۳۹۲ ٤۹۵۳، ٤٩٥٥ ٩٥٦، ٤٩٥٧۔تشریح:۔۔أَوَّلُ مَابُدِ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے پہل جو وحی شروع ہوئی تو وہ بچے خواب تھے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں: ”اس حدیث سے چار باتیں معلوم ہو تیں ہیں: ا۔اول یہ کہ زمانہ نبوت سے پہلے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سچی خوا ہیں آیا کرتی تھیں اور آپ جو خواب دیکھتے وہ کمال صفائی سے اور یقینی طور پر پورے ہو جاتے۔كَفَلَقِ الصُّبْحِ کا یہی مفہوم ہے۔نیز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے سچی خوابوں کو جو وحی کی قسم سے شمار کیا ہے تو یہ اس لئے کہ خواب کی کیفیت ہی دراصل وہ طبعی استعداد ہے جو ترقی کرتے کرتے اللہ تعالیٰ کی مشیئت اور علم کے ظاہر ہونے کے لئے بطور آئینہ کے کام دیتی ہے اور بالآخر انسان پر وحی کی اعلیٰ سے