صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 137 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 137

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۳۷ ۹۱ - كتاب التعبير مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اِقْرَاْ ہو گئی۔پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھو۔بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ حَتَّى بَلَغَ میں نے کہا: میں تو پڑھا ہوا نہیں۔پھر اس نے مجھے پکڑا اور تیسری بار اُس نے اِس زور سے مجھے مَا لَمْ يَعْلَمُ (العلق : ٢ - ٦) فَرَجَعَ بھینچا کہ میری ساری طاقت صرف ہو گئی۔پھر بِهَا تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: اپنے رب کا نام لے عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي کر پڑھ ، جس نے (سب اشیاء کو ) پیدا کیا۔اور فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ وہ اس آیت تک پہنچا: اس نے انسان کو ( وہ کچھ ) يَا خَدِيجَةُ مَا لِي وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ سکھایا ہے جو وہ پہلے نہیں جانتا تھا۔آپ اس (وحی وَقَالَ قَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي الہی کے ساتھ واپس آئے۔آپ کے کندھے فَقَالَتْ لَهُ كَلَّا أَبْشِرْ فَوَاللهِ لَا اور گردن کے درمیان پٹھے پھڑ پھڑا رہے تھے۔يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ آپ حضرت خدیجہ کے پاس آئے اور فرمایا: مجھے وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑا اوڑھادو۔چنانچہ اُنہوں وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبٍ نے آپ کو کپڑا اوڑھا دیا۔یہاں تک کہ الْحَقِّ ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى گھر اہٹ آپ سے جاتی رہی۔آپ نے فرمایا: أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْن خدیجہ مجھے کیا ہو گیا اور آپ نے اُن سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمانے لگے: مجھے تو اپنی جان کا عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيِّ - وَهُوَ ابْنُ اندیشہ ہو گیا ہے۔حضرت خدیجہ نے آپ سے عَمٌ خَدِيجَةَ أَخُو أَبِيهَا – وَكَانَ امْرَأَ کہا: ہر گز نہیں، آپ کو خوشخبری ہو۔اللہ کی قسم ! تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ يَكْتُبُ اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا ، آپ تو صلہ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ فَيَكْتُبُ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنَ رحمی کرتے ہیں اور سچی بات کہتے ہیں اور عاجز کا الْإِنْجِيل مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكْتُبَ وَكَانَ بوجھ اُٹھاتے ہیں اور مہمان کو نوازتے ہیں اور حق شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ فَقَالَتْ لَهُ کی مشکلات میں مدد دیتے ہیں۔پھر حضرت خدیجہ ہو اید، باید تا کی جمع ہے۔وہ گوشت جو گردن اور کندھے کے درمیان ہوتا ہے۔“ (لسان العرب، فصل الباء ، جزء ۲ صفحه (۴۹)