صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 133 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 133

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۳۳ ب الله الخالجة ۹۱ - كتاب التعبير ٩١ - كِتَابُ التَّعْبِيرِ علامہ کرمانی کہتے ہیں تعبیر کا لفظ خواب کی تفسیر کے ساتھ مخصوص ہے۔ اور اس کا معنی ہے ظاہر سے باطن کو عبور کرنا۔ تعبیر کا دوسرا معنی ہے کسی چیز امعنی ہے کسی چیز میں غور و فکر کرنا۔ اس کی اصل ” العبر“ ہے۔ جس کا مطلب ہے ایک حال سے دوسرے حال کی طرف تجاوز کرنا۔ الاعتبار اور العبرة اس حالت کو کہتے ہیں جس میں دیکھی ہوئی چیزوں کے ذریعہ ان دیکھی چیزوں کی معرفت حاصل کی جاتی ہے۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۱۲۶) امام راغب کہتے ہیں تعبیر کے معنی ایک حالت سے دوسری حالت میں جانا ہے اور لفظ عبور پانی کو پار کرنے سے مخصوص ہے، خواہ تیر کر کیا جائے یا کشتی یا اونٹ یا پل کے ذریعہ کیا جائے۔ مرکز آخرت کی طرف منتقل ہونے کیلئے بھی لفظ عبر استعمال ہوتا ہے۔ (المفردات فی غریب القرآن، عبر ) رؤية : امام راغب کہتے ہیں انسان کا بصری حس سے دیکھنا نیز اس کا اطلاق اس پر بھی ہوتا ہے جب انسان تخیل سے اور اک کرتا ہے غور و فکر سے جو معنی حاصل ہوں ان پر بھی رؤیۃ کا اطلاق ہوتا ہے۔ المفردات في غريب القرآن - رأى) خواب کی اقسام کے متعلق محمد بن سیرین حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب تین قسم کا ہوتا ہے۔ رویا صالحہ اللہ تع تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہے اور غمگین کرنے و خواب شیطان کی طرف سے ہے اور ایک خواب حدیث النفس ہوتا ہے۔ والا (صحیح مسلم، کتاب الرؤيا، باب في كون الرؤيا من الله ) علامہ مازری کہتے ہیں کہ رویا کی حقیقت کے متعلق لوگوں نے بہت باتیں کی ہیں اس بارے میں غیر مسلموں کے اکثر اقوال نا معقول ہیں۔ کیونکہ انہوں نے ایسے نتائج پر پہنچنے کی کوشش کی ہے جنہیں نہ تو عقل تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی وہ کسی دلیل پر بنا کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ وہ سمعی روایات کو سچا نہیں سمجھتے۔ اس لیے ان کی باتوں میں الجھاؤ اور اضطراب ہے۔ پھر جس کسی کا تعلق محض علم طب سے ہو وہ تمام خوابوں کو ذہنی انتشار سے منسوب کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جس میں بلغمی مادہ زیادہ ہو، وہ ایسی خواہیں دیکھتا ہے کہ گویا وہ پانی میں ہے اور جس میں صفراء کا غلبہ ہو وہ آگ وغیرہ دیکھتا ہے۔ اگر عقل اسے تسلیم بھی کرلے تو اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان یہ تو نہیں کہ وہ اسے اپنی عادت بنا لے۔ جبکہ نہ تو اس پر کوئی دلیل ہے اور نہ ہی یہ سنت اللہ ہے۔ لہذا جواز کے اس موقع کو قطعی قرار دینا غلط ار دینا غلط ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر جو کوئی فلسفہ میں آگے بڑھ جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ زمین میں وقوع پذیر ہونے والی تمام صورتیں عالم بالا میں نقوش کی طرح ہیں اور (خواب میں) ان نقوش کے بالمقابل جو (وجود) ہوتا ہے اس پر ان کا