صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 132
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۳۲ ٩٠- كتاب الحيل يتَوَلَّى أمور الرجل في ماله وملكه وعمله ومنه قيل للذى يستخرج الزكاة: عامل۔ اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ عامل کا ہدیہ لینے کیلئے حیلہ کرنا مکروہ ہے اور عامل سے مراد وہ شخص ہے جو کسی مرد کے مال میں اور اس کے املاک میں اور اس کے عمل میں تصرف کرتا ہے۔ اور جو شخص زکوۃ وصول کرنے کے لیے جاتا ہے اس کو بھی عامل کہتے ہیں۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: (عمدة القاری، جزء ۲۴ صفحه (۱۲۴) زکوۃ کے مصرف میں کارکنان تحصیل زکوۃ ادنی و اعلی سب شامل ہیں۔ بیان کیا جا چکا ہے کہ کسی فرد کے لئے جائز نہیں کہ وہ زکوۃ کا خود حساب کر کے اُسے اپنے یا غیر کے لئے خرچ کرے حتی کہ محصلین بھی پابند ہیں کہ وہ زکوۃ کا حساب امام کے سامنے پیش کریں۔ اس میں سے خود بخود اپنے لئے رکھ لینا جائز نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عبد اللہ بن لتنبیہ سے جائزہ لینے کا واقعہ مختصراً یہی بات ذہن نشین کرانے کے لئے نقل کیا گیا ہے کہ قرآن مجید نے جن افراد کو زکوۃ کا مستحق ٹھہرایا ہے اُن کے لئے جائز نہیں کہ وہ بغیر اجازت امام کے زکوۃ میں سے اپنے لئے رکھ لیں۔ حضرت عبد اللہ بن تنبیہ کے پاس زکوۃ کے مال میں سے کچھ پایا گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اطلاع ملنے پر اُن سے حساب لیا تو انہوں نے کہا کہ یہ مال بطور ہدیہ انہیں دیا گیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: پھر گھر میں کیوں نہ بیٹھے رہے۔ وہیں ہدیہ پہنچ جاتا۔ (کتاب الهبه روایت نمبر ۲۵۹۷) قرآن مجید نے مصرف زکوۃ میں محتاجوں کا حق کارکنوں کے حق پر مقدم رکھا ہے لیکن اس کے برعکس پبلک روپے کا بیشتر حصہ کارکنوں پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔“ آپ مزید فرماتے ہیں: ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب الزكاة، شرح باب ۶۷ ، جلد ۳ صفحه ۱۵۲) آپ کے نیک نمونہ سے ظاہر ہے کہ حکام وقت کو ہدایا قبول کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ روایت نمبر ۲۵۹۷ سے بھی ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی الم نے بھی ایسے ہدا یا نا پسند فرمائے۔ لفظ العِلہ کے معنی ہیں ایسا سبب جس سے نقص لازم آتا ہو۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح ، كتاب الهبة، شرح باب مَنْ لَّمْ يَقْبَلِ الْهَدِيَّةَ لِعِلَّةٍ ، جلد ۴ صفحہ ۶۴۳)