صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 134 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 134

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۳ ۹۱ - كتاب التعبير کس پڑ جاتا ہے۔علامہ مازری کہتے ہیں کہ یہ تو پہلی تو جیہہ سے بھی زیادہ غلط ہے کیونکہ یہ ایک ایسی زبر دستی کی بات ہے جس کی کوئی دلیل نہیں۔وہ بیان کرتے ہیں کہ درست عقیدہ وہی ہے جس پر اہل سنت قائم ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ سوئے ہوئے شخص کے دل میں بعض افکار و خیالات ڈال دیتا ہے، جس طرح وہ کسی بیدار شخص کے دل میں خیالات) پیدا کرتا ہے۔اور جب وہ یہ افکار پیدا کرتا ہے تو وہ انہیں دوسری حالت میں تخلیق کردہ بعض امور کی شناخت کا نشان بنادیتا ہے اور اگر اس میں سے کوئی بات ( تعبیر ) سوچنے والے کے خیال کے بر عکس واقع ہو جائے تو وہ ایسا ہی ہے جیسے بیدار شخص کے ساتھ ہوتا ہے۔اور اس کی مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بادل بنایا ہے جو بارش کی علامت ہے حالانکہ بسا اوقات) اس کے خلاف واقع ہو جاتا ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ یہ خیالات کبھی فرشتہ کے ذریعہ ڈالے جاتے ہیں جن کے بعد خوشی و مسرت ملتی ہے اور کبھی شیطان کے ذریعہ ڈالے جاتے ہیں جن کے بعد تکلیف اور ضرر ہوتا ہے اور حقیقی علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔علامہ قرطبی کہتے ہیں کہ شریعتوں کو نہ ماننے والوں کی ان پراگندہ باتوں کے سبب اُن کا انبیاء کی لائی ہوئی صراط مستقیم سے اعراض کرنا ہے۔(فتح الباری جزء ۱۲ صفحہ ۴۴۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خدا نے جو عام لوگوں کے نفوس میں رویا اور کشف اور الہام کی کچھ کچھ تخم ریزی کی ہے وہ محض اس لئے ہے کہ وہ لوگ اپنے ذاتی تجربہ سے انبیاء علیہم السلام کو شناخت کر سکیں اور اس راہ سے بھی ان پر حجت پوری ہو اور کوئی عذر باقی نہ رہے۔" ے بھی ان پر لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۲۶) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے وحی اور الہام کا مادہ ہر شخص میں رکھ دیا ہے۔کیونکہ اگر یہ مادہ نہ رکھا ہوتا تو پھر حجت پوری نہ ہو سکتی۔اس لئے جو نبی آتا ہے اس کی نبوت اور وحی و الہام کے سمجھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی فطرت میں ایک ودیعت رکھی ہوئی ہے اور وہ ودیعت خواب ہے۔اگر کسی کو کوئی خواب سچی کبھی نہ آتی ہو تو وہ کیونکر مان سکتا ہے کہ الہام اور وحی بھی کوئی چیز ہے۔اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة : ۲۸۷) اس لیے یہ مادہ اس نے سب میں رکھ دیا ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۲۸۱،۲۸۰) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: صورت چہارم الہام کی یہ ہے کہ رویا صادقہ میں کوئی امر خدائے تعالیٰ کی طرف