صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 123 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 123

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۰ کتاب الحيل ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا کہ میرے اہل خانہ اور بچے ایک ایسے مقام میں ہیں جہاں طاعون کا زور ہے۔میں گھبرایا ہوا ہوں اور وہاں جانا چاہتا ہوں۔فرمایا: مت جاؤ۔وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرۃ: ۱۹۷) پچھلی رات کو اُٹھ کر اُن کے لیے دعا کرو۔یہ بہتر ہو گا بہ نسبت اس کے کہ تم خود جاؤ۔ایسے مقام پر جانا گناہ ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۲۰۳) آپ علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: ”جو خدا کا مقرب ہوتا ہے اسے کبھی خدا کے قہر کی آگ نہیں کھاتی۔دیکھو انبیاء کے وقت میں وبائیں اور طاعون سخت ہوتے رہے مگر کوئی بھی نبی ان عذابوں میں ہلاک نہیں ہوا۔صحابہ کے وقت میں بھی طاعون پڑا اور بہت سے صحابہ اس سے شہید بھی ہوئے مگر اس وقت وہ صحابہ کے واسطے شہادت تھی کیونکہ صحابہ اپنا کام پورا کر چکے تھے اور اعلیٰ درجہ کی کامیابی اُن کو ہو چکی تھی اور نیز وہ کوئی تحدی کا وقت بھی نہ تھا اور مرنا تو ہر انسان کے ساتھ لازمی لگا ہوا ہے۔اسی ذریعہ سے خدا تعالیٰ کو اُن کی موت منظور تھی، ان کے واسطے شہادت تھی۔مگر جب کسی عذاب کے واسطے پہلے سے خبر دی جاوے کہ خدا آسمان سے اپنی ناراضگی کی وجہ سے قہر نازل کرے گا تو ایسے وقت میں وہ دبا رحمت نہیں اور شہادت نہیں ہوا کرتی بلکہ لعنت ہوا کرتی ہے۔پس خدا کی طرف دوڑو، اسی کے پاس معالجے ہیں اور بچاؤ کے سامان ہیں۔(الحکم، جلدے نمبر ۹ صفحه ۱۳،۱۲ مورخہ ۱۰ مارچ ۱۹۰۳ء)۔" ( ملفوظات جلد ۳ صفحه ۱۲۴) بَابِ ١٤: فِي الْهِبَةِ وَالسُّفْعَةِ ہبہ اور شفعہ کے متعلق وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ إِنْ وَهَبَ هِبَةً أَلْفَ اور بعض لوگوں نے کہا: اگر ایک ہزار یا اس سے دِرْهَم أَوْ أَكْثَرَ حَتَّى مَكَثَ عِنْدَهُ سِنِينَ زیادہ درہم ہبہ کرے اور یہ درہم اُس کے پاس کچھ وَاحْتَالَ فِي ذَلِكَ ثُمَّ رَجَعَ الْوَاهِبُ سال رہیں اور دینے والا اُن کے متعلق کوئی حیلہ کر فِيهَا فَلَا زَكَاةَ عَلَى وَاحِدٍ مِنْهُمَا کے اُن کو واپس لے لے تو اُن دونوں میں سے کسی فَخَالَفَ الرَّسُولَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے ذمہ زکوۃ نہ ہوگی۔اُن لوگوں نے ہبہ کے متعلق