صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 122
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۲۲ ۹۰ - كتاب الحيل نے آگے اُن کو اس کی مثال دی کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کیا ہے۔مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس اُونٹ ہوں اور تم اُن کو لے کر ایسی وادی میں اتر و جس کے دو کنارے ہوں۔ایک سرسبز ہو اور دوسرا خشک، تو کیا ایسا نہیں کہ اگر تم اپنے اونٹوں کو سرسبز جگہ پر چراؤ تو وہ اللہ کی تقدیر سے ہے اور اگر تم ان کو خشک جگہ پر چر اؤ تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہی ہے۔اب اللہ کی تقدیر نے تمہارے اوپر دو آپشن دے دیے ہیں۔ایک سبز چراگاہ ہے، ایک جہاں بالکل خشک جگہ ہے، بنجر ہے ،اکا د کا جھاڑیاں ہیں یا تھوڑا بہت گھاس ہے۔اب تم کہہ دو کہ یہ سبزہ اپنی تقدیر سے آگا ہے اور یہ جو خشکی ہے وہ کسی اور تقدیر سے ہے، یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی تقدیریں ہیں۔اب تم نے فیصلہ کرنا ہے کون سی بہتر آپشن لینی ہے۔ظاہر ہے تم سرسبز جگہ پر چراؤ گے۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ان کو یہ باتیں کہیں۔اس کے بعد کہتے ہیں کہ اتنے میں حضرت عبد الرحمن بن عوف بھی آگئے جو پہلے اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکے تھے۔انہوں نے عرض کی کہ میرے پاس اس مسئلے کا علم ہے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا: آپ لوگوں سے مشورہ لے رہے ہیں، میں بتاتا ہوں مجھے اس کا علم ہے۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم کسی جگہ کے بارے میں سنو کہ وہاں کوئی وہا پھوٹ پڑی ہے تو وہاں مت جاؤ اور اگر کوئی مرض کسی ایسی جگہ پر پھوٹ پڑے جہاں تم رہتے ہو تو وہاں سے فرار ہوتے ہوئے باہر مت نکلو۔جہاں وبا پھوٹ پڑی ہے وہاں جانا نہیں اور جس علاقے میں رہتے ہو وہاں وہا ہے تو پھر وہاں سے اُس وقت باہر نہ نکلو اور اپنے آپ کو وہیں رکھو تا کہ وہ مرض اور وہا جو ہے وہ باہر دوسرے لوگوں میں نہ پھیلے۔آج کل لاک ڈاؤن میں دنیا اس پر جو عمل کر رہی ہے، جنہوں نے وقت پر کیا وہاں کافی حد تک اس کو محدود کر لیا، بیماری کو contain کر لیا، جہاں نہیں کر سکے اور لا پروائی کی وہاں یہ پھیلتی جارہی ہے۔بہر حال یہ بنیادی نکتہ آنحضرت صلی ا ہم نے شروع میں اپنے صحابہ کو بتا دیا۔اس پر حضرت عمرؓ نے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی اور واپس لوٹ گئے۔“ (خطبہ جمعہ فرموده ۱۹، جون ۲۰۲۰، الفضل انٹر نیشنل، ۱۰جولائی ۲۰۲۰، صفحه ۸)