صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 121 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 121

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۲۱ ٩٠ كتاب الحيل راتوں کی مسافت پر ہے۔یعنی اُس وقت جو سواریوں کا انتظام تھا اُن کے ساتھ تیرہ راتیں مسلسل چلتے رہیں تو اس کی اتنی مسافت تھی۔وہاں پہنچے تو آپ کی ملاقات فوجوں کے کمانڈر حضرت ابوعبیدہ بن الجراح اور ان کے ساتھیوں سے ہوئی۔یہ واقعہ اٹھارہ ہجری میں حضرت عمرہ کے دور خلافت میں شام کی فتوحات کے بعد کا ہے، ان لوگوں نے حضرت عمر کو بتایا کہ شام کے ملک میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے۔حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے کہا کہ میرے پاس مشورے کے لیے اولین مہاجرین کو بلاؤ، شروع کے جو مہاجرین ہیں اُن کو بلاؤ، وہ کیا مشورہ دیتے ہیں۔حضرت عمر نے اُن سے مشورہ کیا مگر مہاجرین میں اختلاف رائے ہو گئی۔بعض کا کہنا تھا کہ اس معاملے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیئے یعنی سفر جاری رکھنا چاہیئے جبکہ بعض نے کہا کہ اس لشکر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام شامل ہیں اور اُن کو اس وبا میں ڈالنا مناسب نہیں۔بہتر یہ ہے کہ واپس چلا جائے۔حضرت عمر نے مہاجرین کو بھجوادیا اور پھر انصار کو مشورے کے لیے بلایا۔اُن سے مشورہ لیا مگر انصار کی رائے میں بھی مہاجرین کی طرح اختلاف ہو گیا۔کچھ نے کہا واپس چلے جائیں اور کچھ نے کہا آگے چلیں۔حضرت عمر نے انصار کو بھجوایا اور پھر فرمایا: قریش کے بوڑھے لوگوں کو بلاؤ۔قریش کے اُن بوڑھے لوگوں کو بلاؤ جو فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کر کے مدینہ آئے تھے۔اُن کو بلایا گیا، انہوں نے یک زبان ہو کر مشورہ دیا کہ ان لوگوں کو ساتھ لے کر واپس لوٹ چلیں، کوئی ضرورت نہیں۔وہاں وبا پھوٹی ہوئی ہے، وہاں جانے کی ضرورت نہیں ہے اور وبائی علاقے میں لوگوں کو نہ لے کر جائیں۔حضرت عمر نے اُن کا مشورہ مان کے لوگوں میں واپسی کا اعلان کروادیا۔حضرت ابوعبیدہ بن جراح نے اس موقعے پر سوال کیا: کیا اللہ کی تقدیر سے فرار ممکن ہے ؟ آپ اس وبا کے ڈر سے واپس جارہے ہیں تو یہ تو اللہ کی تقدیر ہے ، بیماری پھیلی ہوئی ہے۔کیا آپ اس سے فرار ہو سکتے ہیں؟ حضرت عمر نے حضرت ابو عبیدہ سے فرمایا کہ اے ابو عبیدہ کاش تمہارے علاوہ کسی اور نے یہ بات کہی ہوتی۔ہاں ہم اللہ کی ایک تقدیر سے فرار ہوتے ہوئے اللہ ہی کی ایک دوسری تقدیر کی طرف جاتے ہیں۔پھر حضرت عمر