صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 113
صحیح البخاری جلد ۱۶ الالم ٩٠ كتاب الحيل کا ٹکڑا کھاؤ گے۔آج کل دیکھ لیں ایک معمولی عقل والا انسان بھی ہو کوئی، اُس کو فیصلے کا اختیار دیا جائے تو وہ کہہ دیتا ہے کہ مجھے تمہاری باتوں سے اندازہ ہو گیا ہے۔اتنی فراست مجھ میں ہے کہ میں سچ اور جھوٹ کو دیکھ لوں۔لیکن آپ کا ایک بڑا محتاط طریقہ تھا۔“ (خطبات مسرور ، خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۱،مارچ ۲۰۰۵ء، جلد ۳ صفحه ۱۴۶) بَاب ١١: فِي النِّكَاح نکاح کے متعلق ٦٩٦٨: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۶۹۶۸ مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي ہشام بن ابی عبد اللہ ) نے ہمیں بتایا۔یحی بن ابی كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کثیر نے ہم سے بیان کیا۔بچی نے ابو سلمہ (بن النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عبد الرحمن بن عوف) سے، ابوسلمہ نے حضرت لَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ وَلَا ابوہریرہ سے ، حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی ا یکم سے الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ روایت کی۔آپ نے فرمایا: باکرہ (کنواری) کا نکاح كَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ إِذَا سَكَتَتْ۔نہ کیا جائے جب تک اُس سے اجازت نہ لی جائے عن أطرافه: ٥١٣٦، ٦٩٧٠- اور نہ ہی شیبہ (بیوہ) کا جب تک اس سے مشورہ نہ لیا جائے۔پوچھا گیا: یا رسول اللہ ! اس کی اجازت کیونکر ہوگی؟ آپ نے فرمایا: جب خاموش ہو گی۔وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ إِنْ لَّمْ تُسْتَأْذَنَ اور بعض لوگوں نے کہا: اگر با کرہ سے اجازت نہ لی الْبِكْرُ وَلَمْ تَزَوَّجْ فَاحْتَالَ رَجُلٌ فَأَقَامَ جائے اور وہ نکاح نہ کرے اور ایک شخص حیلہ کر شَاهِدَيْ زُورٍ أَنَّهُ تَزَوَّجَهَا بِرِضَاهَا کے دو جھوٹے گواہ کھڑے کر دے کہ اُس نے اس فَأَثْبَتَ الْقَاضِي نِكَاحَهَا وَالزَّوْجُ يَعْلَمُ کی رضامندی سے اُس سے نکاح کیا اور قاضی اُس أَنَّ الشَّهَادَةَ بَاطِلَةٌ فَلَا بَأْسَ أَنْ يُطَاهَا کے نکاح کو ثابت شدہ قرار دے اور وہ خاوند جانتا وَهُوَ تَزْوِيجٌ صَحِيحٌ۔ہے کہ اُس کی شہادت باطل ہے تو کوئی قباحت نہیں کہ اُس سے جماع کرے اور یہ صحیح نکاح ہو گا۔