صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 112 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 112

صحیح البخاری جلد ١٦ ۱۱۲ ۹۰ کتاب الحیل باب نمبر ۱۰: یہ باب بلا عنوان ہے۔یعنی یہ پچھلے باب کی ہی ذیل میں ہے۔گزشتہ باب میں امام بخاری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے کہ تم پر دوسروں کے مال حرام ہیں، عام فتوی بیان کیا تھا جبکہ زیر باب روایت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے فیصلوں کے متعلق یہ فرمانا کہ اگر کوئی ہوشیاری سے مجھ سے ایسا فیصلہ کر والے جس میں دوسرے فریق کی حق تلفی ہو رہی ہو تو میرا یہ فیصلہ بھی اس کے لئے جہنم کی آگ ہو گا۔اس سے ناجائز حیلہ کارڈ کیا ہے۔اسلامی حکومت کا مین فیسٹو ( منشور ) عدل اور انصاف ہے اور اس کا قیام افراد خانہ سے شروع ہو کر معاشرہ کے تمام طبقات ، مذہب وملت اور رنگ ونسل کے امتیاز سے بالا تر ہو کر أخط كُلّ ذِي حَق حَقَّهُ کا شعار اور سلوگن ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے متعلق یہ فرمانا کہ تم میں سے کوئی اپنی ہوشیاری سے مجھ سے نا انصافی کا فیصلہ کر والے، آپ کی عاجزی اور انکساری کا کمال ہے۔آپ کی بصیرت، نور فراست اور مردم شناسی کے آگے بڑی سے بڑی عقل اندھی اور ہوشیاری لاشئی محض ہے۔دراصل آپ نے قیامت تک آنے والے قاضیوں، حکمرانوں اور انصاف قائم کرنے والوں کے لئے اندار کے رنگ میں بیان فرمایا ہے کہ تم اپنی عقل اور علم کے گھمنڈ میں نہ رہنا۔انصاف کے تقاضے پورے کرنا بہت مشکل کام ہے۔فائلیں، ریکار ڈ اور گواہیاں اصل حقیقت کے برعکس فیصلے کروا سکتی ہیں اس لئے بہت احتیاط، باریک بینی اور خوف خدا سے فیصلے کرنے ہوں گے۔اور اس سے بھی بڑا انذار غلط فیصلے کروانے والوں کے لئے ہے کہ اگر تم نے اپنے حق میں غلط فیصلہ کروالیا تو انجام کار تمہارے لئے جہنم کی آگ بنے گا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جمہور کہتے ہیں کہ فیصلہ کا دارو مدار شہادت پر ہے۔مدعی کو فیصلہ کے بعد اگر واضح شہادت مل جائے تو وہ پیش کی جاسکتی ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۳۵۴) حدیث زیر باب اس بارہ میں واضح ہے کہ فصاحت و بلاغت سے مدعی اپنے حق میں فیصلہ کرا سکتا ہے مگر اس سے حرام حلال اور ناجائز جائز نہیں ہو سکتا۔ایسا فیصلہ تو آگ کا کام دے گا۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب الشهادات، شرح باب مَنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ بَعْدَ الْيَمِينِ، جلد ۴ صفحه ۷۵۱) حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ آپ کامل انسان تھے اور ظاہر ہے کہ کامل انسان کی فراست بھی ایک اعلیٰ درجہ پر پہنچی ہوئی فراست تھی اور اس فراست سے بھی آپ جھوٹ اور بیچ کا کچھ اندازہ لگا سکتے تھے لیکن ایک بشر ہونے کا احساس آپ کو اس قدر تھا۔فرمایا کہ اگر مجھ سے اپنے حق میں غلط فیصلہ کرواؤ گے تو آگ