صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 114
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۰ - كتاب الحيل ٦٩٦٩ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۶۹۶۹: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔یحی بن سعید نے عَنِ الْقَاسِمِ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ وَلَدِ جَعْفَرٍ ہم سے بیان کیا۔بچی نے قاسم (بن محمد ) سے تَخَوَّفَتْ أَنْ يُزَوَجَهَا وَلِيُّهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ روایت کی کہ جعفر کی اولاد میں سے ایک عورت فَأَرْسَلَتْ إِلَى شَيْخَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ - ڈری کہ اُس کا ولی اس کا نکاح نہ کر دے اور وہ نا پسند کرتی تھی تو اس نے انصار میں سے بڑی عمر عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعِ ابْنَيْ جَارِيَةَ - کے دو افراد عبد الرحمن اور مجمع کو جو دونوں جاریہ قَالَا فَلَا تَخْشَيْنَ فَإِنَّ خَنْسَاءَ بِنْتَ کے بیٹے تھے، کہلا بھیجا تو اُن دونوں نے کہا: تم ڈرو خِدَامٍ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ فَرَدَّ نہیں کیونکہ حضرت خنساء بنت خدام کا نکاح اُس النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ۔قَالَ کے باپ نے کر دیا تھا اور وہ نا پسند کرتی تھیں تو نبی سُفْيَانُ وَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَسَمِعْتُهُ صلى الله علیہ وسلم نے اس نکاح کو باطل قرار دیا۔سفیان کہتے تھے: عبد الرحمن جو ہیں تو میں نے اُن سے سنا۔وہ اپنے باپ سے یوں نقل کرتے تھے کہ يَقُولُ عَنْ أَبِيهِ إِنَّ حَنْسَاءَ۔۔أطرافه: 5۱۳۸، 5139، 1945- حضرت خنساء (آخر تک) ٦٩٧٠: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۱۹۷۰ : ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ہمیں بتایا۔اُنہوں نے يجي ( بن ابی کثیر) سے ، يحي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ نے ابو سلمہ (بن عبد الرحمن) سے، ابوسلمہ نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُنْكَحُ الْأَتِمُ حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوہ کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے مشورہ نہ لیا جائے اور باکرہ ( کنواری ) کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے اجازت نہ لی جائے۔لوگوں نے کہا: اس کی اجازت کیسے ہوگی؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ وہ خاموش رہے۔حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ قَالُوا كَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ أَنْ تَسْكُت۔أطرافه: ٥١٣٦، ٦٩٦٨-