صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 109
صحيح البخاری جلد ۱۶ 1+9 ٩٠ كتاب الحيل کی ظاہری شکل اسے جائز قرار دے۔ایسی یتیم لڑکیاں جن کے ولی اپنی نیت کے کھوٹ کی وجہ سے ان کی حق تلفی کریں اور ان کی یتیمی کا ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں، اسلام ان بچیوں کے لئے علم انصاف بلند کرتا ہے اور ایسا نکاح کرنے والوں کا راستہ روکتا ہے جو انصاف کے تقاضے پورے نہ کریں۔جیسا کہ زیر باب روایت میں ذکر ہے: نهوا عن نِكَاحِهِنَّ إِلَّا أَنْ تُقْسِطُوا لَهُنَّ فِي إِمَالِ الصَّدَاقِ (وہ یتیم لڑکیوں کے ایسے نکاح سے روک دیئے گئے تھے سوائے اس کے کہ وہ پورا پورا مہر دے کر اُن سے انصاف کریں۔) اسلام نے عورت کے حقوق کے تحفظ اور انہیں انصاف ولانے کے لئے جو جامع اور کامل تعلیم دی ہے اس کا عشر عشیر بھی دیگر مذاہب اور تہذیبوں میں نہیں ملتا۔بَاب ٩ : إِذَا غَصَبَ جَارِيَةً فَزَعَمَ أَنَّهَا مَاتَتْ اگر کوئی کسی لونڈی کو زبر دستی چھین لے اور یہ کہے کہ وہ مرگئی ہے فَقُضِيَ بِقِيمَةِ الْجَارِيَةِ الْمَيِّتَةِ ثُمَّ تو اُس مری ہوئی لونڈی کی قیمت کے ادا کرنے کا وَجَدَهَا صَاحِبُهَا فَهِيَ لَهُ وَيَرُدُّ الْقِيمَةَ فیصلہ کیا جائے۔پھر اس کا مالک اس کو پالے تو وہ وَلَا تَكُونُ الْقِيمَةُ ثَمَنًا وَقَالَ بَعْضُ لونڈی اُس کی ہو گی اور وہ قیمت واپس کر دے اور النَّاسِ الْجَارِيَةُ لِلْغَاصِبِ لِأَخْذِهِ الْقِيمَةَ وه قیمت اصل مول نہ ہو گا اور بعض لوگوں نے کہا مِنْهُ۔وَفِي هَذَا احْتِيَالٌ لِمَنِ اشْتَهَى کہ وہ لونڈی بوجہ اس کے کہ مالک نے قیمت لے جَارِيَةً رَجُلٍ لَا يَبِيعُهَا فَغَصَبَهَا وَاعْتَل لی ہے چھینے والے کی ہو گی اور اس میں ایسے شخص بِأَنَّهَا مَاتَتْ حَتَّى يَأْخُذَ رَبُّهَا قِيمَتَهَا کے لئے حیلہ ہے جو کسی شخص کی لونڈی کی خواہش کرے جو اس کو بیچتا نہیں اور وہ اُس کو چھین لے اور یہ بہانہ کرے کہ وہ مرگئی ہے تاکہ اس کا مالک اس کی قیمت لے لے تو اس طرح دوسرے کی لونڈی، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ وَلِكُلِ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ چینے والے کے لئے حلال ہو جائے گی۔نبی صلی اللہ فَتَطِيبُ لِلْغَاصِبِ جَارِيَةَ غَيْرِهِ۔قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْوَالُكُمْ الْقِيَامَةِ۔علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اموال ایک دوسرے پر حرام ہیں اور ہر دغا باز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈ ا نصب کیا جائے گا۔٦٩٦٦: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ٢٩٢٦: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد اللہ بن دینار سے،