صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 108
صحیح البخاری جلد ۱۹ ۱۰۸ -۹۰- كتاب الحيل يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ وَإِنْ خِفْتُم اُنہوں نے کہا: عروہ بن زبیر ) بیان کرتے تھے کہ الا تُقْسِطُوا فِي الْيَتى فَانكِحُوا مَا طَابَ اُنہوں نے حضرت عائشہ سے پوچھا: وَإِنْ خِفْتُم لكُم مِّنَ النِّسَاءِ (النساء: ٤) قَالَتْ الا تُقْسِطُوا في الیشی یعنی اور اگر تمہیں (یہ) هي الْيَتِيمَةُ فِي حَجْرٍ وَلِيْهَا فَيَرْغَبُ فِي خوف ہو کہ تم یتیموں (کے بارہ) میں انصاف نہ کر مَالِهَا وَجَمَالِهَا فَيُرِيدُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا سکو گے تو جو (صورت) تمہیں پسند ہو (کرلو) ( یعنی غیر یتیم ) عورتوں میں سے نکاح کر لو۔سے کیا بِأَدْنَى مِنْ سُنَّةِ نِسَائِهَا فَنُهُوا عَنْ مراد ہے ؟ انہوں نے کہا: یہ وہ یتیم لڑکی ہے جو نِكَاحِهِنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ فِي اپنے سرپرست کی پرورش میں ہو اور وہ اس کے إِكْمَالِ الصَّدَاقِ ثُمَّ اسْتَفْتَى النَّاسُ مال اور خوبصورتی کی وجہ سے چاہتا ہو کہ اس قسم رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی عورتوں کا جو (حق مہر ) عام طور پر ہوتا ہے اس بَعْدُ فَأَنْزَلَ اللهُ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ سے کم دے کر اس سے نکاح کرلے۔اس لئے وہ (النساء: ۱۲۸) فَذَكَرَ الْحَدِيثَ۔یتیم لڑکیوں کے ایسے نکاح سے روک دیئے گئے تھے سوائے اس کے کہ وہ پورا پورا مہر دے کر اُن سے انصاف کریں۔پھر اس آیت کے بعد لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا تو اللہ نے یہ سورۃ نازل کی۔وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ یعنی اور لوگ تجھ سے (ایک سے زیادہ) عورتوں سے نکاح) کے متعلق (احکام) دریافت کرتے ہیں۔شعیب نے وہ ساری حدیث بیان کی۔أطرافه ٢٤٩٤، ۲۷٦٣ ٤٥٧٤،٤٥۷۳، ٤٦۰۰، ۰۰٦٤، ۰۰۹۲، ۰۰۹۸، ۵۱۲۸، تشريح : مَا يُنْهَى عَنِ الْاحْتِيَالِ لِلْوَلِي فِي الْيَتِيمَةِ الْمَرْغُوبَةِ۔اس یتیم لڑکی کے متعلق جو پسندیدہ ہو سر پرست کے لئے حیلہ کرنا۔معاشرے کی اکائی ایک گھرانہ ہے جس کی بنیاد نکاح کے ذریعہ میاں بیوی کے جوڑے کی صورت میں قائم ہوتی ہے۔صحت نیت کو اسلام نکاح کی وہ بنیادی اینٹ قرار دیتا ہے جس سے اس کی عمارت کھڑی ہو گی۔وہ نکاح جس کے انعقاد میں بدنیتی، دھوکہ ، دغا اور جھوٹ ہو وہ جائز نہیں گو قانون