صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 110 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 110

صحيح البخاری جلد ۱۶ 11+ ۹۰ - كتاب الحيل عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ اُنہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ، النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ۔سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: ہر دغا باز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا جس کے ذریعہ سے أطرافه: ۳۱۸۸، ۶۱۷۷، ۶۱۷۸، ۷۱۱۱- وہ پہچانا جائے گا۔إِذَا غَصَبَ جَارِيَةً فَزَعَمَ أَنَّهَا مَاتَتْ: اگر کوئی کسی لونڈی کو زبر دستی چھین لے اور یہ کہے کہ وہ مرگئی ہے۔علامہ بدر الدین مینی لکھتے ہیں: يَعْنِي أَخَذَهَا قَهْرًا فَلَمَّا ادَّعَى عَلَيْهِ الْمُعْصَبْ مِنْهُ زَعَمَ أَى : الْعَاصِبُ أَنَّ الْجَارِيَة ماتت۔۔۔فَقَضَى الْحَاكِمُ بِقِيِّمَةِ تِلْكَ الْجَارِيَةِ الَّتِي زَعَمَ الْغَاصِبُ أَنهَا مَاتَت ثُمَّ وَجَدَهَا صَاحِبُهَا وَهُوَ الْمَغْصُوبُ مِنْهُ فَهِيَ أَى الْجَارِيَةُ لَهُ أَى الْمَالِكِ، وَيُرَةُ الْقِيْمَةُ الَّتِي حَكَمَ بِهَا إِلَى الْغَاصِبِ وَلَا تَكُونُ الْقِيْمَةُ فَمَنَّا، إِذْ لَيْسَ ذَلِكَ بَيْعًا إِنَّمَا أَخَذَ الْقِيْمَةَ لِزَعْمِ هَلَاكِهَا، فَإِذَا زَالَ ذَلِكَ وَجَبَ الرُّجُوعُ إِلَى الأضل (عمدة القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۱۱۵) جب کسی مرد نے کسی شخص کی لونڈی کو غصب کر لیا۔جب اس م مغصوب منه نے غاصب کے خلاف دعوی کیا تو غاصب نے کہا کہ وہ باندی مرگئی تو حاکم نے یہ فیصلہ کیا کہ جس باندی کے متعلق غاصب نے یہ کہا ہے کہ وہ مرگئی ہے اُس کی قیمت مالک کو ادا کرے، پھر باندی کے مالک کو وہ باندی مل گئی جو غصب کی گئی تھی تو وہ باندی اس مالک کی ہی ہو گی اور جس رقم کی ادائیگی کا غاصب کے خلاف فیصلہ کیا گیا تھا وہ رقم واپس کی جائے گی اور وہ رقم اس باندی کی قیمت نہیں ہو گی کیونکہ یہ بیچ نہیں ہے۔اس نے یہ رقم اس لیے لی تھی کہ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ لونڈی ہلاک ہو گئی ہے اور جب یہ دعویٰ زائل ہو گیا تو پھر اصل کی طرف رجوع کرنا واجب ہے۔امام بخاری نے زیر باب فقہاء کی ان آراء کو حدیث رسول کے ذریعہ غلط ثابت کیا ہے جو کہتے ہیں: الجارية للغاصب۔کیونکہ غاصب کے لئے جواز کا فتویٰ ایک حرام کو حلال اور ناجائز کام کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔زیر باب حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کے مال ناجائز طور پر لینے کو حرام قرار دیا ہے اس لئے غاصب اگر گواہوں سے اپنے مقدمہ کو ثابت بھی کر دے تب بھی وہ اس کے لئے مال حرام ہی ہو گا۔زیر باب دوسری روایت نمبر ۶۹۶۶ سے امام بخاری نے اسے اسلامی شریعت سے غداری قرار دیا ہے اور غدار کی سزا اور رسوائی بیان کر کے ایسے حیلہ سازوں کو سخت انذار اور اُخروی عذاب کی وعید سنائی ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تم دنیا میں اگر اپنی چالاکی سے قانون کے تقاضے پورے کر بھی لو اور دنیا کی سزا سے بچ بھی جاؤ تو آخرت میں یہ سزا بہت بڑی رسوائی اور ذلت پر منتج ہوگی۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: غدار کی فضیحت نمایاں کی جائے گی۔دنیا میں بھی وہ بدنام ہوتا ہے اور چاروں طرف سے انگشت نمائی ہوتی ہے کہ فلاں بد عہد ہے اور آخرت میں بھی اس کی