صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 105 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 105

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۰۵ ۹۰ کتاب الحيل فریب سے لیا گیا ہے۔بیع بخش میں قیمت زیادہ پیش کرنے والے کی غرض خریدنا نہیں بلکہ نرخ بڑھانا ہے۔طبرانی نے بھی ان کی یہی روایت نقل کی ہے۔“ (فتح الباری جزء ۴ صفحه ۴۴۹) (عمدۃ القاری جزء ۱ ۱ صفحه ۲۶۳) ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب البیوع، شرح باب النجش، جلد ۲ صفحہ ۱۲۰) بَاب : مَا يُنْهَى مِنَ الْخِدَاعِ فِي الْبُيُوعِ خرید و فروخت میں جو دھوکے سے ممانعت ہے وَقَالَ أَيُّوبُ يُخَادِعُونَ اللَّهَ كَأَنَّمَا اور ایوب نے کہا کہ یہ لوگ اللہ سے بھی ایسا ہی يُخَادِعُونَ آدَمِيًّا لَوْ أَتَوُا الْأَمْرَ عِيَانًا قریب کرتے ہیں جیسا آدمیوں سے فریب کرتے ہیں۔اگر کھلم کھلی بات کریں تو یہ میرے لئے زیادہ كَانَ أَهْوَنَ عَلَيَّ۔آسان ہو۔٦٩٦٤: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا ۶۹۶۴: اسماعیل بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد اللہ بن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا دینار سے، اُنہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ الله عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ فَقَالَ عليه وسلم سے ذکر کیا کہ اُسے خرید و فروخت میں إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ۔دھوکہ دے دیا جاتا ہے۔آپ نے فرمایا: جب تم کسی سے خرید و تو یہ کہہ دیا کرو: دغانہ ہو۔تشريح : مَا يُنهى من الخداع في البيوع: خرید و فروخت میں جو دھو کے سے ممانعت ہے۔وگان أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى يَكْرَهُ أَن يَمدَحَ الرَّجُلُ سِلْعَتَهُ عِندَ الْبَيْع - - امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ مکروہ سمجھتے تھے کہ آدمی بیچ کرتے وقت اپنے سامان کی تعریف کرے۔کوئی شخص کسی مسلمان کو تجارت میں دھوکہ دے یا غلط بیانی سے کام لے، یہ ناجائز ہے۔حدیث میں آتا ہے: مَن غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا۔۔۔(صحيح مسلم، کتاب الایمان، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا ) جس نے ہمیں (مسلمانوں کو) دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔دوسری حدیث میں آیا ہے: مَن بَاعَ عَيْبًا لَمْ يُبَيِّنَهُ، لَمْ يَزَلْ فِي مَفْتِ اللَّهِ، وَلَمْ تَزَلِ (الملتقط في الفتاوى الحنفية، كتاب الآداب، مطلب يكره أن يمدح الرجل سلعة عند البيع ، صفحہ ۲۷۶)