صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 106
صحيح البخاری جلد ۱۶ 1+1 ۹۰ کتاب الحيل الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُهُ ! جس نے کوئی عیب دار چیز فروخت کی اور اُس کے خریدار کو اس کا عیب نہ بتایا تو ہ ہمیشہ اللہ کے غضب میں رہے گا اور اُس پر فرشتے ہمیشہ لعنت کرتے رہیں گے۔حضرت زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: بیع و شراء اور لین دین میں ماپ تول سے متعلق کئی احکام قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر وارد ہوئے ہیں۔مثلاً سورہ اعراف میں مدین قوم کا ذکر ہے جو تاجر پیشہ تھی اور اپنے تجارتی کاروبار میں فریب دہی سے کام لیتی تھی۔اُن کی اصلاح کے لئے خدا کے نبی حضرت شعیب علیہ السلام بھیجے گئے اور انہوں نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: قَدْ جَاءَ تَكُم بَيْنَةٌ مِن رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُم مُؤْمِنِينَ (الأعراف: ۸۲) یقیناً تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کھلی کھلی نشانی آچکی ہے۔پس ماپ اور تول پورا کیا کرو اور لوگوں کو اُن کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فسادنہ پھیلایا کرو۔یہ تمہارے لیے بہتر تھا اگر تم ایمان لانے والے ہوتے۔یہ ارشاد بھی جامع ہے۔پہلے حصے میں ماپ اور وزن پورا کرنے کا حکم ہے اور دوسرے حصے میں منع کیا گیا ہے کہ لوگوں کو خرید و فروخت کی اشیاء ناقص نہ دو نہ مقدار میں نہ نوعیت کے لحاظ سے۔قرآنِ مجید کے احکام بیع و شراء کے بارہ میں ایک مکمل ضابطہ ہیں۔اس تعلق میں مندرجہ ذیل آیات بھی ملاحظہ ہوں: وَلَا تَنْقُصُوا المِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِلى رَبِّكُمْ بِخَيْرٍ وَ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُحِيطٍ وَيُقَومِ أَوفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَ هُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ، بَقِيَّتُ اللهِ خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُم مُؤْمِنِينَ وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظ (هود: ۸۵ تا ۸۷) اور ماپ اور تول میں کمی نہ کیا کرو۔یقیناً میں تمہیں دولت مند پاتا ہوں اور میں تم پر ایک گھیر لینے والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔اور اے میری قوم! ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو اور لوگوں کی چیزیں انہیں کم کر کے نہ دیا کرو اور زمین میں مفسد بنتے ہوئے بدامنی نہ پھیلاؤ۔اللہ کی طرف سے جو ( تجارت میں) بچتا ہے وہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم (سنن ابن ماجه، کتاب التجارات، بَاب مَنْ بَاعَ عَيْبًا فَلْيُبَینَهُ، جزء ۲ صفحه ۷۵۵)