صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 104 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 104

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۱۰۴ ۹۰ - كتاب الحيل سے کہ جب پانی جانوروں کو پینے کے لئے نہیں ملے گا تو لوگ جانور چرانے کے لئے نہیں لائیں گے اور گھاس صرف کنوئیں والے کے جانوروں کے لئے محفوظ رہے گی اور وہی اس سے استفادہ کر سکے گا۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۱) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔جمہور نے مندرجہ بالا حدیث سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جو رفاہ عامہ کی غرض کے لئے ہو، بیچنا مکروہ ہے اور مذکورہ بالا ممانعت بطور تنزیہ ہے نہ کہ تحریم۔عنوانِ باب اور احادیث زیر باب اسی مفہوم کی تائید کرتی ہیں۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب المساقاة، شرح باب من قال ان صاحب الماء احق، جلد ۴ صفحه ۳۵۰،۳۴۹) باب ٦ : مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّنَاجُشِ بخش جو مکروہ ہے (یعنی خریدنے کی نیت کے بغیر کسی چیز کی قیمت بڑھانا) ٦٩٦٣ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۶۹۶۳: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔اُنہوں عَنْ مَّالِكِ عَنْ نَّافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ نے مالک سے ، مالک نے نافع سے ، نافع نے حضرت رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى ابن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخش سے منع فرمایا۔عَنِ النَّجْشِ۔طرفه: ٢١٤٢- ح : مَا يُكْرَهُ من التناجش : بخش جو مکروہ ہے (یعنی خریدنے کی نیت کے بغیر کسی چیز کی قیمت بڑھانا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " کسی شخص کا کسی سامان کی قیمت دوسرے سے زیادہ دینے کا اظہار کرنا جبکہ حقیقتاً وہ چیز خرید نا نہیں چاہتا بخش کہلاتا ہے اور شوافع کے نزدیک ایسی بیچ فسخ نہ ہوگی، برقرار رہے گی لیکن بائع گنہگار ہو گا۔حنابلہ کے نزدیک یہ بیج باطل ہے اور قابل فسخ ( فتح الباری جزء ۴ صفحه ۴۴۹) یہی مضمون اس باب کا ہے۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب البیوع، شرح باب النجش، جلد ۴ صفحہ ۱۱۹) آپ مزید فرماتے ہیں: حضرت ابن ابی اوفی کی روایت ابن ابی شیبہ اور سعید بن منصور نے بھی نقل کی ہے۔اُن کے نزدیک ایسی بیع کا نفع سود ہے کیونکہ واجبی قیمت سے وہ زیادہ ہے جو