صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 101 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 101

صحيح البخاری جلد ۱۶ تشریح |+1 ۹۰ کتاب الحيل۔۔الحيلة في النكاح: نکاح کے متعلق حیلہ کرنا۔شغار۔یہ عربی لفظ ہے۔لغت میں اس کے ایک معنی رفع یعنی اُٹھانے کے ہیں۔کہا جاتا ہے: شعر الكلب إذا رفع رجلها ليبول (کتے نے پیشاب کے لئے ٹانگ اٹھائی) اور جب باب مفاعلہ سے ہو تو رفع میں مشارکت ہوگی۔شغار باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔امام اللغہ ابن قتیبہ شغار کے معنی میں فرماتے ہیں: کل واحد منهما يشعر عند الجماع ان کے نزدیک شغار شرعی اسی محاورہ سے ماخوذ ہے۔شعر بمعنی بعد اور خلا بھی ہے۔کہا جاتا ہے: شغر البلد إذا خلا یعنی شہر محافظ سے خالی ہو گیا۔اور شغار کو مہر سے خالی ہونے کی وجہ سے شغار کہا جاتا ہے۔لغت میں شغر الرجل المرأة بھی مستعمل ہے۔مسلم میں حضرت ابن عمر اور ابن حبان میں حضرت انس سے روایت ہے: لا شعار في الإسلام (یعنی اسلام میں شعار نہیں ہے۔) ان النبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نهى عن المشاغرة (أخرجه أبو الشيخ في كتاب النکاح) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے۔امام نووی فرماتے ہیں: اس پر سب متفق ہیں کہ نکاح شغار نا جائز ہے۔(فتح الباری، جزء ۹ صفحه ۲۰۴) المنهاج شرح صحيح مسلم للنووی، کتاب النکاح، باب تحریم نكاح الشغار ، جزء ۹ صفحه (۲۰۱) امام ترمذی اپنی جامع میں فرماتے ہیں: وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ نِكَاحُ الشَّعَارِ مَفْسُوخٌ، وَلَا يَحِلُّ وَإِنْ جُعِلَ لَهُمَا صَدَافًا، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِي وَأَحمدَ وَ إِسحاق ہے کہ بعض اہل علم نے فرمایا: نکاح شغار فسخ ہو گا اور منعقد نہیں ہوگا اگر چہ دونوں کے لئے مہر کا تقرر ہو اور یہ شافعی، احمد اور اسحاق کا مذہب ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نکاح شغار اور وٹہ سٹہ کی شادی سے متعلق فرماتے ہیں: ”اسلام نے اس قسم کی شادی کو نا پسند کیا ہے کہ ایک شخص اپنی لڑکی دوسرے شخص کے لڑکے کو اس شرط پر دے کہ اس کے بدلہ میں وہ بھی اپنی لڑکی اس کے لڑکے کو دے لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اگر طرفین کے فیصلے الگ الگ اوقات میں ہوئے ہوں اور ایک دوسرے کو لڑکی دینے کی شرط پر نہ ہوئے ہوں تو کوئی حرج نہیں۔“ (الفضل ۱۵ جنوری ۱۹۱۸ء، خطبات محمود جلد ۳ صفحه ۲۸) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں: ملک کا رواج ہے کہ لڑکی تب دیتے ہیں کہ جب کوئی اُن کے لڑکے یا رشتہ دار کا (صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب تحريم نكاح الشغار وبطلانه) (صحیح ابن حبان، کتاب النکاح باب ذكر الزجر عن أن يزوج المرء ابنته۔۔۔من غير صداق، جزء ۹ صفحه (۴۶) (سنن الترمذی، ابواب النکاح، باب ما جاء فى النهي عن نكاح الشغار )