صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 102
صحيح البخاری جلد ۱۹ ٩٠ كتاب الحيل بھی بندوبست کرے۔ایسا باپ جو لڑکی کے فوائد کو نظر انداز کر دیتا ہے اور اپنے فوائد کو مقدم کرتا ہے وہ سخت بُراکام کرتا ہے۔اس قسم کے رشتوں کو بڑا کہتے ہیں اور یہ شریعت میں نا جائز ہے۔یہ جائز ہے کہ ایک جگہ کسی کی لڑکی بیاہی ہو اور پھر لڑکی والوں کے ہاں لڑکے والوں کی لڑکی کا رشتہ ہو جائے مگر مقرر کر کے رشتہ داری کرنا نا جائز ہے اور اپنے وکالت نامہ کا غلط استعمال ہے اور ابھی تک ہماری جماعت میں سے یہ بھی نہیں گیا۔جب تک لوگ اس فرض کو نہ پہچانیں گے کہ ہم اپنے وکالت نامہ کو خراب نہیں کریں گے تب تک یہ رسم نہیں مٹ سکتی۔“ الفضل ۲۲ جون ۱۹۲۲ء، خطبات محمود، جلد ۳ صفحه ۱۴۴) أَنَّ عَلِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قِيلَ لَهُ إِنَّ ابْن عَبَّاسِ لَا يَرَى مُتْعَةِ النِّسَاءِ بَأْسًا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عنها : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ حضرت ابن عباس عورتوں سے متعہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے۔اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” متعہ صرف اس نکاح کا نام ہے جو ایک خاص عرصہ تک محدود کر دیا گیا ہو پھر ماسوا اس کے متعہ اوائل اسلام میں یعنی اس وقت میں جبکہ مسلمان بہت تھوڑے تھے صرف تین دن کے لئے جائز ہوا تھا اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ وہ جو از اس قسم کا تھا جیسا کہ تین دن کے بھوکے کے لئے مردار کھانا نہایت بے قراری کی حالت میں جائز ہو جاتا ہے اور پھر متعہ ایسا حرام ہو گیا جیسے سور کا گوشت اور شراب حرام ہے اور نکاح کے احکام نے متعہ کے لئے قدم رکھنے کی جگہ باقی نہیں رکھی۔قرآن شریف میں نکاح کے بیان میں مردوں کے حق عورتوں پر اور عورتوں کے حق مردوں پر قائم کئے گئے ہیں اور متعہ کے مسائل کا کہیں ذکر بھی نہیں۔اگر اسلام میں متعہ ہوتا تو قرآن میں نکاح کے مسائل کی طرح متعہ کے مسائل بھی بسط اور تفصیل سے لکھے جاتے لیکن کسی محقق پر پوشیدہ نہیں کہ نہ تو قرآن میں اور نہ احادیث میں متعہ کے مسائل کا نام و نشان ہے لیکن نکاح کے مسائل بسط اور تفصیل سے موجود ہیں۔“ آرید دهرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۶۸۶۷)