صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 99
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۹ ٩٠ كتاب الحيل بَاعَهَا فِرَارًا أَوِ احْتِيَالًا لِإِسْقَاطِ الزَّكَاةِ یا اُن کو بیچ دے تاکہ بچ جائے یاز کوۃ کو ساقط کرنے فَلَا شَيْءٍ عَلَيْهِ وَكَذَلِكَ إِنْ أَتْلَفَهَا کے لیے بہانہ مل جائے تو اُس کے ذمہ کچھ نہ ہو گا اور اسی طرح اگر اُن کو تلف کر دے اور وہ مرجائے فَمَاتَ فَلَا شَيْءٍ فِي مَالِهِ۔أطرافه: ٢٧٦١ ، ٦٦٩٨- تو بھی اُس کے مال میں زکوۃ نہیں ہو گی۔تشریح۔في الزكاة: زکوۃ کے متعلق حقوق العباد میں اول درجہ زکوۃ کا ہے جو ہرقسم کے اتفاق اور بنی نوع انسان کی خدمت کرنے ، اُن کے لئے نافع بنے اور ہر شر سے انہیں بچانے کا نام ہے۔یہ قومی نیکی ہے اور اس کی حکم عدولی کرنے والا قومی مجرم ہے اس لئے وہ تمام اموال اور ذرائع جو قوم کی بہبود کے ہیں اُن کو قوم پر سرف نہ کرنا قومی جرم ہے۔لوگ اس کے لئے طرح طرح کے حیلے بہانے بناتے ہیں مثلا ز کوۃ تو مقررہ نصاب پر عائد ہوتی ہے، اس نصاب سے بچنے کے لئے اپنے اموال میں ہیراپھیری سے کمی بیشی کر دینا ایسا حیلہ ہے جو قومی جرم ہے جیسے بعض رمضان کے ان دنوں میں بینک سے اپنی بھاری رقمیں نکلوالیتے ہیں تاکہ زکوۃ سے بچ جائیں اور جب زکوۃ کا وہ وقت گزر جاتا ہے، دوبارہ جمع کرادیتے ہیں یا اپنی آمدنی صحیح نہیں بتاتے اور مالی قربانی میں حصہ نہیں لیتے یا آپس میں مال اس طرح تقسیم کر لیتے ہیں کہ زکوۃ کے نصاب پر مال پورا نہ اترے یا ٹیکس بچانے کے لئے یا مالی فائدے اُٹھانے کے لئے جھوٹے اور جعلی کاغذات تیار کر لیتے ہیں۔یہ سب خیلے قومی جرم کے زمرہ میں آتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: زکوۃ کا نام اسی لئے زکوۃ ہے کہ انسان اس کی بجا آوری سے یعنی اپنے مال کو جو اُس کو بہت پیارا ہے للہ دینے سے بخل کی پلیدی سے پاک ہو جاتا ہے اور جب بخل کی پلیدی جس سے انسان طبعاً بہت تعلق رکھتا ہے انسان کے اندر سے نکل جاتی ہے تو وہ کسی حد تک پاک بن کر خدا سے جو اپنی ذات میں پاک ہے ایک مناسبت پیدا کر لیتا ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۰۴،۲۰۳) باب ٤ : الْحِيلَةُ فِي النِّكَاحِ نکاح کے متعلق حیلہ کرنا ٦٩٦٠ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۶۹۲۰: ہم سے مسدد نے بیان کیا کہ ہمیں بچی بن بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ حَدَّثَنِي سعید نے عبید اللہ (عمری) سے روایت کرتے ہوئے نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ بتایا۔اُنہوں نے کہا: نافع نے مجھ سے بیان کیا۔رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى اُنہوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت