صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 95 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 95

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۵ ٩٠ كتاب الحيل بالکل نہ رکھے مگر خدا اس کی نیت اور ارادہ کو جانتا ہے جو صدق اور اخلاص رکھتا ہے۔خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کے دل میں درد ہے اور خدا تعالیٰ اسے ثواب سے زیادہ بھی دیتا ہے کیونکہ درد دل ایک قابل قدر شئے ہے۔حیلہ جو انسان تاویلوں پر تکیہ کرتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ تکیہ کوئی شئے نہیں۔“ (ملفوظات، جلد ۲ صفحہ ۵۶۴) بَاب ٢ : فِي الصَّلَاةِ نماز کے متعلق ٦٩٥٤: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ :۶۹۵۴: اسحاق بن نصر نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَّعْمَرٍ عَنْ هَمَّامٍ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔انہوں نے معمر سے، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ معمر نے ہمام سے ، ہمام نے حضرت ابو ہریرہ سے، عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقْبَلُ اللهُ صَلَاةَ حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ۔روایت کی۔آپ نے فرمایا: اللہ تم میں سے کسی کی نماز قبول نہیں کرتا جبکہ وہ بے وضو ہو۔یہاں تک طرفه: ١٣٥- کہ وہ وضو کرے۔تشریح۔في الصَّلاةِ: نماز کے متعلق۔نماز وہی قبولیت کے لائق ٹھہرتی ہے جو اپنی شرائط کے ساتھ ادا کی جائے اور نماز کی شرط اول طہارت اور پاکیزگی ہے جو وضو یا بعض صورتوں میں غسل کو لازم قرار دیتی ہے۔اگر کوئی شخص اس شرط کو کسی حیلہ سے چھوڑ دے مثلاً ٹھنڈے پانی کا عذر ہو یا نفس کوئی اور بہانہ تراش لے جس سے بغیر وضو کے نماز پڑھی جائے تو وہ نماز قبولیت کے درجہ کو نہیں پہنچتی۔امام بخاری مضامین کے حسن ترتیب سے ماخذ شریعت کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔حقوق اللہ میں نماز شریعت کا مغز ہے۔اسے حیلوں سے ضائع کرنا شریعت کی روح کے منافی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” جب تو نماز کے لئے کھڑا ہو تو ایسانہ کر کہ گویا تو ایک رسم ادا کر رہا ہے بلکہ نماز سے پہلے جیسے ظاہری وضو کرتے ہو ایسا ہی ایک باطنی وضو بھی کرو اور اپنے اعضاء کو غیر اللہ کے خیال سے دھو ڈالو۔تب ان دونوں وضوؤں کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد ۳، صفحه ۵۴۹)