صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 94
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۹۴ -۹۰- كتاب الحيل کئی حج کرنے والے بھی ہیں لیکن اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اُن کی نیتوں میں فتور ہے تو اس فتور کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول نہیں ہیں۔یہ تمام عبادتیں اور نیکیاں نہ صرف رد کر دی جاتی ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہلاکت کا باعث بن جاتی ہیں جس کا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔" خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۲۲ مئی ۲۰۰۹، جلدی صفحه ۲۳۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اصل مدعانیت پر ہے۔نیت اگر خراب اور فاسد ہو تو ایک جائز اور حلال فعل کو بھی حرام بنا دیتی ہے۔ایک قصہ مشہور ہے۔ایک بزرگ نے دعوت کی اور اس نے چالیس چراغ روشن کئے۔بعض آدمیوں نے کہا کہ اسقدر اسراف نہیں کرنا چاہیئے۔اُس نے کہا کہ جو چراغ میں نے ریا کاری سے روشن کیا ہے اسے بجھا دو۔کوشش کی گئی، ایک بھی نہ بجھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی فعل ہوتا ہے اور دو آدمی اُس کو کرتے ہیں۔ایک اس فعل کو کرنے میں مرتکب معاصی کا ہوتا ہے اور دوسر ا ثواب کا۔اور یہ فرق نیتوں کے اختلاف سے پیدا ہو جاتا ہے۔لکھا ہے کہ بدر کی لڑائی میں ایک شخص مسلمانوں کی طرف سے نکلا جو اکٹاکٹر کر چلتا تھا اور صاف ظاہر ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا تو فرمایا کہ یہ وضع خدا تعالیٰ کی نگاہ میں معیوب ہے مگر اس وقت محبوب ہے کیونکہ اس وقت اسلام کی شان اور شوکت کا اظہار اور فریق مخالف پر ایک رعب پیدا ہوتا ہے۔پس ایسی بہت سی مثالیں اور نظیریں ملیں گی جن سے آخر کار جا کر یہ ثابت ہوتا ہے کہ انما الاعمال بالنيات بالکل صحیح ہے۔“ (ملفوظات، جلد ۲ صفحہ ۳۹۰،۳۸۹) آپ علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: اس دنیا میں بہت لوگ بہانہ جو ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جس طرح اہل دنیا کو دھوکا دے لیتے ہیں ویسے ہی خدا کو فریب دیتے ہیں۔بہانہ جو اپنے وجود سے آپ مسئلہ تراش کرتے ہیں اور تکلفات شامل کر کے ان مسائل کو صحیح گردانتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ صحیح نہیں۔تکلفات کا باب بہت وسیع ہے اگر انسان چاہے تو اس (تکلف) کی رُو سے ساری عمر بیٹھ کر نماز پڑھتار ہے اور رمضان کے روزے