صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 93 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 93

صحیح البخاری جلد ۲ ۹۳ ۹۰ کتاب الحيل يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ہے اور جس نے دنیا کے حاصل کرنے کے لئے ہجرت کی یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہجرت کی تو اس کی ہجرت اسی بات کے لئے ہے جس کے لئے اس نے ہجرت کی۔أطرافه ،۱ ، ۲۵۲۹، ۳۸۹۸، ۵۰۷۰، ٦٦۸۹- ريح : في ترك الحيل : امام بخاری نے کتاب الحیل کا آغاز باب توک الحیل اور اس کے ذیل میں نیت والی حدیث سے کیا ہے۔اس سے امام بخاری کی دقت نظر اور استخراج مسائل میں بے نظیر بصیرت کا پتہ چلتا ہے۔حیلہ کے متعلق جملہ بحثوں کو انہوں نے کوزے میں دریابند کر دینے کے مترادف حدیث انما الاحتمالی بالنیات (یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے) سے اس موضوع کا قبلہ درست کر دیا ہے۔اس موضوع پر جتنی بھتیں ہیں اُن کا ماحصل یہ ہے کہ کوئی بھی حیلہ کیوں کیا گیا؟ اس کے پیچھے نیت کیا تھی ؟ مقاصد کیا تھے ؟ اس اصل الاصول پر ہر حیلہ کو پرکھا جا سکتا ہے اور بڑی آسانی سے جائز اور ناجائز کا فرق کیا جاسکتا ہے کیونکہ حیلہ فی ذاتہ برا نہیں بلکہ حکمت کا ایک دقیق طریق ہے جو حسن نیت اور دانائی سے استعمال کیا جائے تو یہ شر اور فساد سے بچانے والا اور نافع الناس طریق ہے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جنگوں میں دشمن کے مخالف سمت میں نکلنا اور اچانک دشمن کے سر پر آجانا جس سے وہ بہت بڑے کشت و خون سے بچ گئے۔اس کی بہت نمایاں مثال فتح مکہ ہے جو انتہائی معمولی خونریزی سے اتنی بڑی فتح پر منتج ہوئی۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: ائما الاعمال بالنیات کی حدیث بھی جوامع الکلم میں سے ہے۔سچ تو یہ ہے کہ دین کی ساری ماہیت اس ایک جملہ میں کوٹ کر بھر دی گئی ہے اور یہ جملہ در حقیقت بطور اُس اصل الاصول کے ہے کہ جس سے انسان کو حیوان سے امتیاز حاصل ہوتا ہے اور جس کی بناء پر انسان کے طبعی افعال دائرہ اخلاق میں داخل ہو کر انسان کو ذمہ وار اور اعمال کی جواب دہ ہستی بنا دیتے ہیں اور شریعت کی تمام پابندیاں اس پر عائد ہو جاتی ہیں۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح کتاب الوحی، باب كيف كان بدء الوحی، جلد اول صفحہ ۲) حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ جو دلوں کا حال جانتا ہے وہ بندے کے عمل کرنے کی نیت کا علم رکھتا ہے۔بظاہر نیکیاں کرنے والے، عبادتیں کرنے والے، روزے رکھنے والے، حتی کہ کئی