صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 92 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 92

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۲ ۹۰ - كتاب الحيل ابو حنیفہ سے اگر ایک ذرہ بھی حسن ظن ہو تا تو آپ اس قدر سبکی اور استخفاف کے الفاظ استعمال نہ کرتے۔آپ کو امام صاحب کی شان معلوم نہیں۔وہ ایک بحر اعظم تھا اور دوسرے سب اس کی شاخیں ہیں۔اسکا نام اہل الرائے رکھنا ایک بھاری خیانت ہے۔امام بزرگ حضرت ابو حنیفہ کو علاوہ کمالات علم آثار نبویہ کے استخراج مسائل قرآن میں ید طولیٰ تھا۔خدا تعالیٰ حضرت مجددالف ثانی پر رحمت کرے، انہوں نے مکتوب صفحہ ۳۰۷ میں فرمایا ہے کہ امام اعظم صاحب کی آنیوالے مسیح کے ساتھ استخراج مسائل قرآن میں ایک روحانی مناسبت ہے۔“ الحق مباحثہ لدھیانہ ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۰۱) بَاب ۱ : فِي تَرْكِ الْحِيَلِ حیلوں کے چھوڑنے کے متعلق وَأَنَّ لِكُلِ امْرِئٍ مَا نَوَى فِي الْأَيْمَانِ اور ہر ایک آدمی کے لئے وہی ہوتا ہے جو اس نے نیت کی ہوتی ہے۔یہ قسموں میں بھی ہے اور اس وَغَيْرِهَا۔کے سوا اور باتوں میں بھی۔٦٩٥٣: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۶۹۵۳: ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یحی بن سعید سے، مُّحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ يجي نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ بن وَقَّاصٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وقاص سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ قَالَ سَمِعْتُ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ لوگوں سے مخاطب تھے۔اُنہوں نے کہا: میں نے رَضِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا اے لوگو! عمل تو نیت پر ہی ہوتے ہیں اور آدمی کو لِامْرِئٍ مَّا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى وَہی ملتا ہے جو اس نے نیت کی ہوتی ہے۔اس لئے اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہوئی وَمَنْ هَاجَرَ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ تو اُس کی ہجرت اللہ اور اُس کے رسول کے لئے ہی