صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 91 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 91

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۱ ۹۰ - كتاب الحيل ہا گندے آدمی ملے جلے رہتے۔یہ چار نام اسلام کے واسطے مثل چار دیواری کے تھے۔اگر یہ لوگ پیدا نہ ہوتے تو اسلام ایسا مشتبہ مذہب ہو جاتا کہ بدعتی اور غیر بدعتی میں تمیز نہ ہو سکتی۔“ (ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۵۰۱) نیز فرمایا: ”میری رائے میں ائمہ اربعہ برکت کا نشان تھے ان میں روحانیت تھی کیونکہ روحانیت تقویٰ سے شروع ہوتی ہے اور وہ لوگ در حقیقت متقی تھے اور خدا سے ڈرتے تھے اور اُن کے دِل کلاب الله نیا سے مناسبت نہ رکھتے تھے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۵۴۴) حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت امام ابو حنیفہ کا مقام و مرتبہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: بعض ائمہ نے احادیث کی طرف توجہ کم کی ہے جیسا کہ امام اعظم کو فی رضی اللہ عنہ جن کو اصحاب الرائے میں سے خیال کیا گیا ہے اور ان کے مجتہدات کو بواسطہ دقت معانی احادیث صحیحہ کے بر خلاف سمجھا گیا ہے مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ امام صاحب موصوف اپنی قوت اجتہادی اور اپنے علم اور درایت اور فہم و فراست میں آئمہ ثلاثہ باقیہ سے افضل و اعلیٰ تھے اور اُن کی خداداد قوت فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت عدم ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے اور ان کی قوت مدرکہ کو قرآن شریف کے سمجھنے میں ایک خاص دستگاہ تھی اور اُن کی فطرت کو کلام الہی سے ایک خاص مناسبت تھی اور عرفان کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ چکے تھے اسی وجہ سے اجتہاد و استنباط میں اُن کے لئے وہ درجہ علیا مسلم تھا جس تک پہنچنے سے دوسرے سب لوگ قاصر تھے۔سبحان اللہ اس زیرک اور ربانی امام نے کیسی ایک آیت کے ایک اشارہ کی عزت اعلیٰ وارفع سمجھ کر بہت سی حدیثوں کو جو اس کے مخالف تھیں رڈی کی طرح سمجھ کر چھوڑ دیا اور جہلا کے طعن کا کچھ اندیشہ نہ کیا۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۸۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ ۱۸۹۱ء میں ایک مباحثہ ہوا جس کے دوران آپ نے محسوس کیا کہ مولوی محمد حسین صاحب حضرت امام ابو حنیفہ کے بارہ میں استخفاف سے کام لے رہے ہیں۔اس پر آپ نے فرمایا: ”اے حضرت مولوی صاحب آپ ناراض نہ ہوں۔آپ صاحبوں کو امام بزرگ