صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 90
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۰ ۹۰ - كتاب الحيل آتا ہے کہ انہوں نے ایسے لوگوں کو اپنا مقتد ابنایا جو امامت کے اہل نہیں تھے ( اور اس میں بعض ائمہ کی تکفیر یا تفسیق ہوتی ہے) جو کہ جائز نہیں ہے۔ اُمت کے تمام جھگڑ گڑوں کا فیصلہ کرنے والے حکم عدل نے اس تنازعہ کا بھی نہایت حکیمانہ فیصلہ فرمایا اور ان بزرگ آئمہ کے مقام و مرتبہ کو واضح کیا۔ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں: مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک مولوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور الگ ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ جب وہ آپ سے ملا تو باتوں باتوں میں اس نے کئی دفعہ یہ کہا کہ میں حنفی ہوں اور تقلید کو اچھا سمجھتا ہوں وغیر ذالک۔ آپؐ نے اس سے فرمایا کہ ہم کوئی حنفیوں کے خلاف تو نہیں ہیں کہ آپ بار بار اپنے حنفی ہونے کا اظہار کرتے ہیں۔ میں تو ان چار اماموں کو مسلمانوں کیلئے بطور ایک چار دیواری کے سمجھتا ہوں جس کی وجہ سے وہ منتشر اور پراگندہ ہونے سے بچ گئے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ ہر شخص اس بات کی اہلیت نہیں رکھتا کہ دینی امور میں اجتہاد کرے۔ پس اگر یہ ائمہ نہ ہوتے تو ہر اہل و نا اہل آزادانہ طور پر اپنا طریق اختیار کرتا اور اُمت محمدیہ میں ایک اختلاف عظیم کی صورت قائم ہو جاتی مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان چار اماموں نے جو اپنے علم و معرفت اور تقویٰ و طہارت کی وجہ سے اجتہاد کی اہلیت رکھتے تھے مسلمانوں کو پراگندہ ہو جانے سے محفوظ رکھا۔ پس یہ امام مسلمانوں کے لئے بطور ایک چار دیواری کے رہے ہیں اور ہم ان کی قدر کرتے اور ان کی بزرگی اور احسان کے معترف ہیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یوں تو سارے اماموں کو عزت کی نظر سے دیکھتے تھے مگر امام ابو حنیفہ کو خصوصیت کے ساتھ علم و معرفت میں بڑھا ہوا سمجھتے تھے اور اُن کی قوت استدلال کی بہت تعریف فرماتے تھے۔“ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: (سیرت المہدی، جلد اول صفحه ۳۳۴) امام شافعی اور حنبل وغیرہ کا زمانہ بھی ایسا تھا کہ اس وقت بدعات شروع ہو گئی تھیں۔ اگر اس وقت یہ نام نہ ہوتے تو اہل حق اور ناحق میں تمیز نہ ہو سکتی۔ ہزار