صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 89
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۹ ۹۰ - كتاب الحيل مطابق امام ابو حنیفہ کے حالات و واقعات میں وہی باتیں زیادہ قابل اعتبار ہوں گی جو ائمہ احناف سے منقول ہوں گی کیونکہ ان کی پوری زندگی امام ابو حنیفہ کے حالات واقعات اور فقہی اجتہادات کی تلاش و تحقیق میں گزری ہے۔ حافظ ذہبی نے امام محمد بن الحسن کے مناقب پر ایک خاص کتاب لکھی ہے۔ اس میں وہ امام طحاوی کی سند سے نقل کرتے ہیں: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ أَبِي عِمْرَانَ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَمَاعَةً سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ هَذَا الْكِتَابُ يَعْنِي كِتَابَ الْحِيلِ لَيْسَ مِنْ كُتُبِنَا إِنَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا - - طحاوى ے طحاوی کہتے ہیں: میں نے احمد بن ابی عمران سے سنا۔ وہ کہتے ہیں: محمد بن سماعہ نے کہا: میں نے محمد بن الحسن سے سنا۔ وہ کہتے تھے : ” یہ کتاب یعنی کتاب الحیل ہماری کتابوں میں سے نہیں ہے۔ اس میں بیرونی عناصر کی کار فرمائی ہے۔“ امام ابو سلیمان جو ز جانی کہتے ہیں: کذبوا علی محمد لیس لہ کتاب الحیل و انما کتاب الحیل لوراق کے لوگ امام محمد کے متعلق جھوٹ کہتے ہیں۔ کتاب الحیل ان کی تصنیف نہیں ہے۔ کتاب الحیل کسی وراق ( نقل نویس) کی ہے۔ مشہور حنفی فقیہ سرخسی نے ان کا مزید یہ قول نقل کیا ہے : إِنَّ الْجُهَالَ يَنْسُبُونَ عُلَمَاءَنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ إِلَى ذَلِكَ عَلَى سبِيلِ التَّعْيِيرِ ، فَكَيْفَ يُظَنُّ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ سَمَّى شَيْئًا مِنْ تَصَانِيفِهِ بِهَذَا الْإِسْمِ لِيَكُونَ ذَلِكَ عَوْنَا لِلْجُهَالِ عَلَى مَا يَتَقَولُونَ - جاہل افراد ہمارے علماء کی جانب کتاب الحیل کی نسبت عیب لگانے کیلئے کرتے ہیں اس لئے امام محمد سے کیسے گمان رکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی تصانیف میں اس طرح کی کوئی تصنیف کی ہو گی جو جاہلوں کی مزید حوصلہ افزائی کا موجب ہو۔ ابن تیمیہ لکھتے ہیں: وَلَا يَجُوزُ أَن يُنْسَبَ الْأَمْرُ بِهَذِهِ الْحِيَلِ الَّتِي فِي مُحَرَّمَةٌ بِالاتِّفَاقِ، أَوْ هِيَ كُفُرُ إِلَى أَحَدٍ مِّنَ الْأَعْمَةِ نَةِ وَمَنْ يَنْسُبُ ذَلِكَ إِلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ فَهُوَ مُخْطِئُ فِي ذَلِكَ جَاهِلٌ بِأُصُولِ الْفُقَهَاءِ " اور یہ جائز نہیں ہے کہ وہ حیلے جو متفقہ طور پر حرام ہیں یا کفریہ ہیں اُن کی نسبت ائمہ مسلمین میں سے کسی کی جانب کی جائے اور جو کوئی کسی امام کی جانب ان حیلوں کی نسبت کرتا ہے تو وہ اس سلسلے میں خطاوار ہے اور فقہاء کے اصول کے مطابق جاہل ہے۔ ابن قیم نے اعلام الموقعین میں بیان کیا ہے: وَالْمَقْصُودُ أَنَّ هَذِهِ الْحِيَلَ لَا تَجُورُ أَنْ تُنْسَبَ إِلَى إِمَامٍ فَإِنَّ ذَلِكَ قَدْحٌ فِي إِمَامَتِهِ، وَذَلِكَ يَتَضَمَّنُ الْقَدْحَ فِي الْأُمَّةِ حَيْثُ التَمَّتْ مَنْ لَّا يَصْلُحُ لِلْإِمَامَةِ، وَهَذَا غَيْرُ جَائِز ے ان حیلوں کی نسبت کسی بھی امام کی جانب درست نہیں ہے کیونکہ یہ اُن کی امامت کی شان کے خلاف ہے اور اس سے امت کی شان پر بھی حرف ا (مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه، ص ۸۵) (كشف الظنون عن اسامى الكتب والفنون كتاب الحیل، جزء ۲ صفحه ۱۴۱۵) (المبسوط للسرخسى، كتاب الحیل، جزء ۳۰ صفحه ۲۰۹) (الفتاوى الكبرى لابن تيمية، كتاب اقامة الدليل على ابطال التحليل، الطريق الأول بطلان الحيل والدلة التحريم، جزء ۶ صفحه (۸۵) اعلام الموقعين عن رب العالمين، دَلِيل تَحْرِيمِ الْحِيَلِ وَأَنْوَاعِهَا، جزء ۳ صفحه ۱۴۱)