صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 88
صحیح البخاری جلد ۱۲ MA بسم الله الرحمن الرحي ٩٠ - كتاب الحيل حیلوں کے متعلق احکام ٩٠ - كتاب الحيل حيل حيلة کی جمع ہے۔علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں: حیلہ کا معنی ہے وہ کام جس سے خفیہ طریقہ سے مقصود تک پہنچا جائے۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ (۱۰۸) ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: علماء کے نزدیک حیلوں کی کئی قسمیں ہیں۔اگر کسی مباح طریقہ سے حق کو باطل کیا جائے یا باطل کو ثابت کیا جائے تو یہ حیلہ حرام ہے اور اگر کسی خفیہ طریقہ سے حق کو ثابت کیا جائے یا باطل کو ر ڈ کیا جائے تو یہ مستحب ہے اور اگر کسی مباح طریقہ سے اپنے آپ کو کسی آفت یا مصیبت سے بچایا جائے تو یہ حیلہ مستحب ہے اور اگر کسی جائز طریقہ سے کسی مستحب کام کو ترک کیا جائے تو یہ حیلہ مکروہ ہے۔(فتح الباری، جزء ۱۲ صفحه ۴۰۸) حیلہ کے تعلق میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے حضرت مولوی ظہور الدین صاحب اکمل نے آیت خُذْ بِيَدِكَ ضِعْنَا فَاضْرِبُ بِهِ وَلَا تَحْنت (ص:۴۵) کی نسبت پوچھا کہ اگر اس کے وہ معنی کئے جاویں جو عام مفسروں نے کئے ہیں تو شرع میں حیلوں کا باب کھل جائے گا۔آپ نے فرمایا: چونکہ حضرت ایوب کی بیوی بڑی نیک، خدمتگذار تھی اور آپ بھی متقی صابر تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے تخفیف کر دی اور ایسی تدبیر سجھادی جس سے قسم بھی پوری ہو جائے اور ضرر بھی نہ پہنچے۔اگر کوئی حیلہ اللہ تعالیٰ سمجھائے تو وہ شرع میں جائز ہے کیوں کہ وہ بھی اسی راہ سے آیا جس سے شرع آئی۔اس لیے کوئی ہرج کی بات نہیں۔“ (ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۱۶۰) تاریخ اسلام میں یہ بحث بہت شد و مد سے کی گئی ہے کہ حضرت امام بخاریؒ حضرت امام ابو حنیفہ کے نظریات کے خلاف تھے اور صحیح بخاری میں جابجا امام بخاری نے "قَالَ بَعْضُ النّاس " کہہ کر بغیر نام لئے امام ابو حنیفہ کے خیالات اور نظریات کی تردید کی ہے۔اسی اختلافی بحث میں یہ امر بھی بیان کیا گیا ہے کہ امام بخاری نے یہ کتاب الحیل امام ابو حنیفہ کی کتاب الحیل کے رد میں قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں لکھی ہے۔مگر اس امر کی تردید زور دار الفاظ اور دلائل سے کی گئی ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ کی تو کوئی کتاب اس نام کی نہیں ہے بلکہ ان کے شاگردوں امام یوسف اور امام محمد وغیرہ کی بھی کوئی کتاب اس نام کی نہیں ہے۔بقول شخصے صاحب البیت ادری مافیہ کے اصول کے ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: خشک اور تر شاخوں کا گچھا اپنے ہاتھ میں لے اور اسی سے ضرب لگا اور (اپنی) قسم کو جھوٹا نہ کر۔“