صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 87 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 87

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۷ ۸۹- كتاب الإكراه امَنُوا مَعَهُ مَتى نَصْرُ اللهِ (البقرۃ: ۲۱۵) کیا تم نے سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تک تم پر اُن لوگوں کی سی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے گزرے ہیں۔ انہیں تنگی اور تکلیف پہنچی اور ان پر زلزلہ برپا کیا گیا حتی کہ رسول اور اس کے ساتھی مومن بھی پکار اُٹھے: اللہ کی نصرت کب آئے گی؟ اس آیت سے نصرت کا مفہوم واضح ہوتا ہے کہ وہ ایسی الہی مدد ہے جو تلخیوں کے وقت ظاہر ہوتی ہے۔ چنانچہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ (الحج: ۴۰) وہ لوگ جن سے بلا وجہ جنگ کی جا رہی ہے اُن کو بھی جنگ کی اجازت دی گئی ہے کہ اُن پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ یقیناً اُن کی مدد پر قادر ہے۔ ان حوالوں سے عون اور نُصْرَةٌ کے معانی کا فرق معلوم ہو جاتا ہے۔ حدیث انصر اخاک میں دونوں قسم کی مدد مراد ہے۔“ صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب المظالم ، شرح باب ۴، جلد ۴ صفحه ۴۵۳، ۴۵۴)