صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 86 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 86

صحيح البخاری جلد ۱۹ AY ۸۹- كتاب الإكراه والاستغفار ، باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن و علی الذکر اللہ اپنے بندے کا مددگار رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کا مددگار رہے۔چہارم : مبتلائے مصیبت و غم کو رہائی دلائیں۔پنجم : عیب کی پردہ پوشی کریں۔یہ حقوق منفی و مثبت دونوں پہلوؤں سے معاشرہ کے تعلقات کی سلامتی اور استواری کے لئے از بس ضروری ہیں۔امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ کی جو روایت اس بارہ میں نقل کی ہے اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: وَلَا يَحقِرُهُ - (مسلم، كتاب البر والصلة والآداب، باب تحریم ظلم المسلم) کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر نہ سمجھے اور نہ اُس کی ہتک کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع میں جو خطبہ منی کے مقام پر دیا، اُس میں صراحت ہے کہ مسلمانوں کی جانیں اور آبروئیں اور اُن کے اموال ابد الاباد تک اُن پر حرام یعنی قابل عزت ہیں۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب المظالم ، شرح باب ۳، جلد ۴ صفحه ۴۵۲) انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا: اپنے بھائی کی مدد کر و ظالم ہو یا مظلوم۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: " الفاظ ”اُنْصُرُ أَخَاكَ “ ہیں یعنی اپنے بھائی کی نصرت کر خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔نصرت ایسی مدد کو کہتے ہیں جو تعدی کی حالت میں کی جاتی ہے۔۔۔ظالم کو ظلم سے روکنا در حقیقت ظالم ہی کی مدد ہے۔قرآن مجید میں لفظ عون عام مدد اور نُضَرَةٌ خاص مدد کے مفہوم میں وارد ہوا ہے، جیسے فرمایا: تَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدة: ۳) نیکی و تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔لفظ عون سے ہی ہماری روز مرہ کی دعا ايَّاكَ نَسْتَعِينُ ہے۔استعان کے معنے مدد طلب کی اور نَستَعینُ کے معنے ہیں: ہم د طلب کرتے ہیں۔نصرت کے لفظ کا استعمال جس آیت سے واضح ہوتا ہے وہ یہ ہے۔فرماتا ہے : مَتى نَصْرُ اللهِ أَلا إِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيب (البقرة: ۲۱۵) مومن کہتے ہیں کہ اللہ کی نصرت کب آئے گی؟ سنو ! اللہ کی نصرت یقیناً بہت نزدیک ہے۔اس سے قبل کی آیت یہ ہے: اَم حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِيْنَ خَلُوا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ رو دو