صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 85 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 85

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۵ ۸۹ - كتاب الإكراه الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا مسلمان کا بھائی ہے نہ اُس پر ظلم کرے اور نہ ظالم يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةٍ أَخِيهِ کے حوالے کرے اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں مصروف ہو، اللہ اس کی حاجت كَانَ اللهُ فِي حَاجَتِهِ۔طرفه: ٢٤٤٢ - روائی کرے گا۔٦٩٥٢: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ :۶۹۵۲: محمد بن عبد الرحیم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا سعيد بن سلیمان ( واسطی) نے ہمیں بتایا۔ہشیم نے هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ہم سے بیان کیا کہ عبید اللہ بن ابی بکر بن انس نے بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ ہمیں خبر دی۔عبید اللہ نے حضرت انس رضی اللہ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا، فَقَالَ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْصُرُهُ إِذَا كَانَ ظالم ہو یا مظلوم، تو ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! جب وہ مظلوم ہو تب تو میں اُس کی مدد کروں۔مَظْلُومًا أَفَرَأَيْتَ إِذَا كَانَ ظَالِمًا كَيْفَ یہ فرمائیں کہ جب ظالم ہو تو میں کیسے مدد کروں ؟ أَنْصُرُهُ؟ قَالَ تَحْجُزُهُ أَوْ تَمْنَعُهُ مِنَ آپ نے فرمایا: اُس کو ظلم سے باز رکھو یا فرمایا: روکو، یہی اس کی مدد ہو گی۔الظُّلْمِ فَإِنَّ ذَلِكَ نَصْرُهُ۔أطرافه: ٢٤٤٣، ٢٤٤٤- ريح۔يَمِينُ الرَّجُلِ لِصَاحِبِهِ إِنَّهُ أَخُودُ إِذَا خَافَ عَلَيْهِ الْقَتْلَ أَوْ نَحْوَهُ: آدی کا اپنے ساتھی کے متعلق قسم کھانا کہ وہ اس کا بھائی ہے جب اسے اس کے قتل وغیرہ کا ڈر ہو۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: ”معاشرہ اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے مسلم افراد کے ایک دوسرے پر پانچ حق ہیں۔اول: وہ کسی کی حق تلفی نہ کریں یا کسی کا حق غصب نہ کریں۔دوم: کسی ظالم کو اُن پر ظلم نہ کرنے دیں۔سوم: ایک دوسرے کی حاجت روائی کرنے میں سرگرم عمل رہیں۔اس بارہ میں حضرت ابو ہریرہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: والله في عون الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ - (مسلم، كتاب الذكر والدعاء والتوبة