صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 80 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 80

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۸۰ ۸۹ - كتاب الإكراه مِائَةِ دِرْهَمٍ۔قَالَ فَسَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ آٹھ سو درہم میں خرید لیا۔(عمرو بن دینار) کہتے عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ۔تھے: اور میں نے حضرت جابر سے سنا۔وہ کہتے تھے: وہ ایک قبطی غلام تھا جو پہلے سال ہی مر گیا۔أطرافه: ۲۱٤۱، ۲۲۳۰، ۲۳۲۱، ۲۴۰۳ ٢٤١٥ ٢٥٣٤، ٦٧١٦، ٧١٨٦- إِذَا أُكْرِهَ حَتَّى وَهَبَ عَبْدًا أَوْ بَاعَهُ لَمْ يج : اگر کسی کو مجبور کیا جائے کہ وہ غلام ہبہ کر دے یا اُس کو بیچ دے تو یہ درست نہیں ہو گا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: مدبر دیر سے اسم مفعول ہے جو دُ بُر سے مشتق ہے۔تکبیر کے معنے ما بعد کے انجام پر نظر کرنا، غور کرنا اور مدبر وہ غلام یا لونڈی ہے جسے مالک اپنی موت کے بعد آزاد قرار دے دے۔مالک متوفی کے ورثاء کے لئے جائز نہیں کہ مدبر کو فروخت کریں یا اس کی آزادی منسوخ کریں بجز اس کے کہ آزاد کرنے والا مقروض ہو تو غلام کی آزادی قرض کی حالت میں کالعدم ہوگی اور اس کا قرضہ ادا کرنے کی غرض سے مدبر فروخت کیا جا سکتا ہے یا اس سے خدمت لی جاسکتی ہے تاوقتیکہ اس کی کمائی سے وہ قرض ادا ہو جائے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ تم نے قرض ادا کرنے کے لئے مدبر کو فروخت کیا۔مقروض کے غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا درست نہیں جب تک کہ اس کا قرضہ ادانہ کر دیا جائے۔(فتح الباری جزء ۴ صفحه ۵۳۱) (عمدۃ القاری، جزء ۱۲ صفحه ۴۹) (صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب البیوع، شرح باب ۱۱۰، جلد ۴ صفحه ۲۰۰) بَاب ٥ : مِنَ الْإِكْرَاهِ كَرْهًا وَكُرْهًا وَاحِدٌ گڑھا اور گڑھا کے ایک ہی معنی ہیں اور یہ اگراہ سے ہے یعنی جبر کرنا ٦٩٤٨: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ :۶۹۴۸ حسین بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ اسباط بن محمد نے ہمیں بتایا۔سلیمان بن فیروز شیبانی سُلَيْمَانُ بْنُ فَيْرُوزِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ نے ہم سے بیان کیا۔سلیمان نے عکرمہ سے ، عکرمہ ابْنِ عَبَّاسٍ۔وَقَالَ الشَّيْبَانِيُّ وَحَدَّثَنِي نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔اور شیبانی عَطَاء أَبُو الحَسَنِ السُّوَائِيُّ وَلَا أَظُنُّهُ نے یہ بھی کہا کہ عطاء ابو الحسن سوائی نے بھی مجھ