صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 81
صحيح البخاری جلد ۱۹ Al ۸۹ - كتاب الإكراه إِلَّا ذَكَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہ سے بیان کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ اُنہوں نے حضرت عَنْهُمَا يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہوئے ان تَرِثُوا النِّسَاء كرها ( النساء:۲۰) الآية اس کو بیان کیا۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ قَالَ كَانُوا إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ كَانَ أَوْلِيَاؤُهُ (یعنی اے ایماندارو! تمہارے لیے (یہ) جائز نہیں کہ تم زبر دستی عورتوں کے وارث بن جاؤ) اُنہوں أَحَقَّ بِامْرَأَتِهِ، إِنْ شَاءَ بَعْضُهُمْ تَزَوَّجَهَا نے کہا: لوگوں کی یہ عادت تھی کہ جب کوئی مرد مر وَإِنْ شَاءُوا زَوَّجُوْهَا وَإِنْ شَاءُوا لَمْ جاتا تو اس کے رشتہ دار اس کی بیوی کے حقدار يُزَوِّجُوهَا، فَهُمْ أَحَقُّ بِهَا مِنْ أَهْلِهَا ہوتے۔اگر اُن میں سے کوئی چاہتا تو اس سے خود فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ۔نکاح کر لیتا اور اگر وہ چاہتے تو کسی اور سے اُس کا نکاح کر دیتے اور اگر چاہتے تو اس کا نکاح نہ کرتے۔طرفه: ٤٥٧٩۔غرض وہ اُس عورت پر اُس کے رشتہ داروں کی نسبت سے زیادہ حق رکھتے۔اس لئے یہ آیت اس رواج کے متعلق نازل ہوئی۔بَاب ٦ : إِذَا اسْتُكْرِهَتِ الْمَرْأَةُ عَلَى الزِّنَا فَلَا حَدَّ عَلَيْهَا اگر عورت کو زنا پر مجبور کیا جائے تو اُس عورت کو شرعی سزا نہ ہو گی لِقَوْلِهِ تَعَالَى وَمَنْ يُكْرِهُهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور جو کوئی اُن کو بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَّحِيمُ ) مجبور کرے تو اللہ اُن عورتوں کی مجبوری کے بعد ( النور : ٣٤) بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔٦٩٤٩ : وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي نَافِعٌ أَنَّ ۱۹۴۹ : اور لیث نے کہا: نافع نے مجھ سے بیان کیا صَفِيَّةَ ابْنَةَ أَبِي عُبَيْدٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَبْدًا که صفیہ بنت ابی عبید نے اُن کو بتایا کہ حکومت کے غلاموں میں سے ایک غلام نے غنیمت کے پانچویں مِنْ رَقِيقِ الْإِمَارَةِ وَقَعَ عَلَى وَلِيدَةٍ مِّنَ حصے کی ایک لونڈی سے جماع کیا اور اُس نے اُس الْخُمُسِ فَاسْتَكْرَهَهَا حَتَّى افْتَضَّهَا کو مجبور کر کے اس کی بکارت زائل کی تو حضرت فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ وَنَفَاهُ وَلَمْ يَجْلِدِ عمرؓ نے اُس شخص کو مقررہ کوڑے لگائے اور اُس کو