صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 79 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 79

صحیح البخاری جلد ۱۶ 29 ۸۹ - كتاب الإكراه بد کاری پر مجبور کرنا۔(تفسیر کبیر، تفسیر سورۃ النور، آیت ولا تكرهوا فتيتكم ، جلد ۲ صفحه ۳۱۴) ایک لڑکی کے دو بھائی تھے اور ایک والدہ۔ایک بھائی اور والدہ ایک لڑکے کے ساتھ اس لڑکی کے نکاح کے لیے راضی تھے۔مگر ایک بھائی مخالف تھا۔وہ اور جگہ رشتہ پسند کرتا تھا اور لڑکی بھی بالغ تھی۔اس کی نسبت مسئلہ دریافت کیا گیا کہ اس کا نکاح کہاں کیا جاوے؟ حضرت اقدس علیہ اسلام نے دریافت کیا کہ وہ لڑکی کس بھائی کی رائے سے اتفاق کرتی ہے ؟ جواب دیا گیا کہ اپنے اس بھائی کے ساتھ جس کے ساتھ والدہ بھی متفق ہے۔“ فرمایا کہ ” پھر وہاں ہی اس کا رشتہ ہو جہاں لڑکی اور اس کا بھائی دونوں متفق ہیں۔" لملفوظات جلد ۳ صفحه (۳۵۵) بَاب ٤ : إِذَا أُكْرِهَ حَتَّى وَهَبَ عَبْدًا أَوْ بَاعَهُ لَمْ يَجُزْ اگر کسی کو مجبور کیا جائے کہ وہ غلام ہبہ کر دے یا اُس کو بیچ دے تو یہ درست نہیں ہو گا { وَبِهِ قَالَ بَعْضُ النَّاسِ فَإِنْ نَذَرَ اور اس کے متعلق بعض لوگوں نے کہا: اگر خریدار الْمُشْتَرِي فِيهِ نَذْرًا فَهُوَ جَائِزٌ بِزَعْمِهِ اس میں کوئی نذر مانے تو یہ اس کے خیال میں جائز ہے اور اسی طرح اگر اپنے مرنے کے بعد غلام کو وَكَذَلِكَ إِنْ دَبَّرَهُ } آزاد کرے۔٦٩٤٧ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۶۹۴۷: ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن دینار سے، اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِّنَ عمرو نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ کہ ایک انصاری شخص نے کہا کہ اُس کے مرنے کے الْأَنْصَارِ دَبَّرَ مَمْلُوكًا لَهُ وَلَمْ يَكُنْ لَّهُ بعد اس کا غلام آزاد ہو گا۔اور اس کے پاس اس مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ کے سوا کوئی جائیداد نہ تھی۔یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ يَشْتَرِيهِ علیہ وسلم کے پاس پہنچی۔آپ نے فرمایا: مجھ سے یہ مِنِي؟ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ بِثَمَانِ غلام کون خریدے گا؟ تو نعیم بن نحام نے اس کو ا۔یہ الفاظ عمدۃ القاری کے مطابق ہیں۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۱۰۲) ترجمہ ان کے مطابق ہے۔