صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 78
صحیح البخاری جلد ۱۶ ZA ۸۹ - كتاب الإكراه عَنْ حَنْسَاء بِنْتِ خِدَامٍ -- الْأَنْصَارِيَّةِ انصاری کے بیٹے تھے، اُن دونوں نے حضرت خنساء أَنَّ أَبَاهَا زَوْجَهَا وَهِيَ ثَيِّبْ فَكَرِهَتْ بنت خدام انصاریہ سے روایت کی کہ اُن کے باپ ذَلِكَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے اُن کا نکاح کر دیا اور وہ بیوہ تھیں تو انہوں نے وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا۔اس نکاح کو نا پسند کیا۔وہ رسول اللہ صل اللی کم کے پاس آئیں تو آپ نے اُن کے نکاح کو باطل قرار دیا۔أطرافه: ۱۳۸، 5۱۳۹، 6969- ٦٩٤٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۶۹۴۶ محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن جریج سے، أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أَبِي عَمْرِو - وَهُوَ ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ سے ، انہوں نے ابو عمرو - عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سے جو ذکوان ہیں۔ابو عمرو نے حضرت عائشہ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يُسْتَأْمَرُ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔آپ بیان فرماتی ہیں: ذَكْوَانُ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا عورتوں سے اُن کے النِّسَاءُ فِي أَبْضَاعِهِنَّ؟ قَالَ نَعَمْ۔نکاح کے متعلق مشورہ لیا جائے ؟ آپ نے فرمایا: قُلْتُ فَإِنَّ الْبِكْرَ تُسْتَأْمَرُ فَتَسْتَحْيِي ہاں۔میں نے کہا: کنواری سے اجازت لی جائے تو فَتَسْكُتُ۔قَالَ سُكَاتُهَا إِذْنُهَا۔وہ شرماتی ہے اور خاموش رہتی ہے۔آپؐ نے فرمایا: اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے۔أطرافه: ٥١٣٧، ٦٩٧١۔لا يَجُوزُ نِكَاحُ الْمُكْرَہ: اس کا نکاح جائز نہیں جسے مجبور کیا گیا ہو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: فرماتا ہے کہ اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو۔چونکہ اس جگہ مکاتبت یعنی مشروط آزادی حاصل کرنے والے غلاموں کا ذکر ہے اس لیے اس جگہ وہی لونڈیاں مراد لی جائیں گی جو مشروط آزادی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔دنیا کے حصول کی غرض سے اُن کے اس ارادہ میں روک ڈال کر بدکاری پر مجبور نہ کرو۔یعنی جو عورت مشروط آزادی حاصل کر کے جبری نکاح سے بچنا چاہتی ہے اور مکمل آزادی کے بعد اپنی مرضی کے خاوند سے نکاح کرنا چاہتی ہے اس کو اس ارادہ سے باز رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ 1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ " ھدایہ " ہے۔(فتح الباری، جزء ۱۲ حاشیہ صفحہ ۳۹۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔