صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 77
صحیح البخاری جلد ۱۶ 46 ۸۹ - كتاب الإكراه بانی اسلام کو جس کا مدینہ میں آنے کے بعد پہلا کام یہ تھا کہ اُس نے ان یہود کو اپنا دوست اور معاہد بنایا اور یہود کا پہلا کام یہ تھا کہ انہوں نے اسے اپنا دوست اور معاہد مان کر اسے اپنی جمہوریت کا صدر تسلیم کیا۔اندریں حالات بنو قریظہ کا یہ فعل صرف ایک بد عہدی اور غداری ہی نہیں تھا بلکہ ایک خطر ناک بغاوت کا بھی رنگ رکھتا تھا اور بغاوت بھی ایسی کہ اگر ان کی تدبیر کامیاب ہو جاتی تو مسلمانوں کی جانوں اور ان کی عزت و آبرو اور ان کے دین ومذہب کا یقیناً خاتمہ تھا۔پس بنو قریظہ کسی ایک جرم کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ وہ بے وفائی اور احسان فراموشی کے مرتکب ہوئے ، بد عہدی اور غداری کے مرتکب ہوئے، بغاوت اور اقدام قتل کے مرتکب ہوئے اور ان جرموں کا ارتکاب انہوں نے ایسے حالات میں کیا جو ایک جرم کو بھیانک سے بھیانک صورت دے سکتے ہیں اور دنیا کی کوئی غیر متعصب عدالت ان کے مقدمہ میں موجبات رعایت کا عنصر نہیں پاسکتی۔“ (سیرت خاتم النبيين من اول ، صفحه ۵ ۲۸ ۶۸۸۳) 66 بَاب ۳: لَا يَجُوزُ نِكَاحُ الْمُكْرَهِ اس کا نکاح جائز نہیں جسے مجبور کیا گیا ہو وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ اِن آردن (اللہ تعالیٰ نے فرمایا:) اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ تَحَصُّنَّا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيوةِ الدُّنْيَا وَ شادی کرنا چاہیں تو روک کر مخفی) بدکاری پر مجبور مَنْ يُكْرِهَهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ نہ کرو تا کہ تم دنیوی زندگی کا فائدہ چاہو۔اور اگر کوئی اُن کو بے بس کر دے گا تو ان کے بے بس کیسے غفور رحيم ( النور : ٣٤)۔جانے کے بعد یقیناً اللہ بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔٦٩٤٥: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ :۶۹۴۵: یحی بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد الرحمن بن قاسم سے، الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَ عبد الرحمن نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے مُجَمِّعِ ابْنَيْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ عبد الرحمن اور مجمع سے جو دونوں یزید بن جاریہ