صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 991 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 991

صحیح البخاری جلد ۱۹ ۹۹۱ ۹۷- كتاب التوحيد اگر ہلکے نہ سمجھو گے اور وزن دار سمجھو گے تو پھر وزن کی تلاش بھی کرو گے۔ورنہ بغیر تلاش کے اسی طرح زبان فر فر کرتی آگے نکل جائے گی۔مطلب ہے ٹھہر ٹھہر کر سوچ سوچ کر ، سمجھ سمجھ کر اپنے وجود میں جاری کرتے ہوئے آگے بڑھو اور پھر تم ایسی دنیا میں پہنچ جاؤ گے۔جہاں خدا کے سوا کسی کی عظمت باقی نہیں رہتی ایک ہی ہے جو عظیم ہے۔" (خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرموده ۷ ارد سمبر ۱۹۹۳، جلد ۱۲ صفحه ۹۷۱ تا ۹۷۵) كَلِمَتَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرحمن: دو کلے رحمان کو بہت ہی پیارے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرآن کریم خدا تعالیٰ کی صفت تسبیح کے ساتھ تحمید اور نقدیس کا بھی ذکر کرتا ہے جو امر اسے دوسری کتب سے ممتاز کرتا ہے۔تسبیح میں صرف تنزیہ آتی ہے یعنی اس کے نقصوں سے پاک ہونے کا ذکر آتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس قدر بیان صفات الہیہ کا اعلیٰ درجہ کے متفکر انسان کے لئے کافی نہیں۔کامل دماغ کے لئے صفات تنزیہیہ کے ساتھ صفات حقیقیہ مثبتہ کا اظہار بھی ضروری ہے۔ہم اگر کسی شئے کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ وہ ایسی بھی نہیں اور ویسی بھی نہیں تو بے شک اسے انسانی دماغ کے قریب تو کر دیتے ہیں لیکن اس کی حقیقت کو پوری طرح واضح نہیں کرتے۔قرآن کریم ہی ایک کتاب ہے جس نے تسبیح کے ساتھ تحمید پر زور دیا ہے اور خد اتعالیٰ کو نفی کے ساتھ روشناس نہیں کرایا بلکہ اس کی صفات حمد اور تقدیس پر خاص زور دیا ہے۔۔۔۔۔حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کامل تعلق صفات ایجابیہ پر غور اور ان سے فائدہ اُٹھانے کے بغیر نہیں ہو سکتا۔جو صرف تسبیح کرتا ہے وہ صرف اس امر کا اقرار کرتا ہے کہ وہ ایک بالا ہستی ہے مگر جو اس کی تحمید کرتا ہے وہ اسے ایک زندہ اور فعال خد ا ثابت کرتا ہے اور اس کی صفات سے خود فائدہ اُٹھاتا اور دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔۔۔مسلمانوں کو قرآن کریم میں۔۔۔سب جگہ تسبیح کے ساتھ حمد الہی کو شامل کرنے کا حکم دیا ہے جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خالی صفات سلبیہ پر زور نہ دیا کرو کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی صفات سے فائدہ اُٹھانے کا موقعہ نہیں ملتا بلکہ اس کے ساتھ حمد کو شامل کیا کرو تا کہ ایصال خیر کی صفات سے تم کو فائدہ پہنچے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ