صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 992 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 992

صحیح البخاری جلد ۱۹ ۹۹۲ ۹۷ - كتاب التوحيد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى النِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الميزان حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ : سُبْحَانَ الله وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ الله العظيم ( بخاری جلدم کتاب الایمان والنذور ) دو کلمے ایسے ہیں کہ بولنے کے لحاظ سے تو بہت ہلکے پھلکے ہیں مگر نتیجہ کے لحاظ سے بہت بھاری ہیں اور رحمن کو بہت ہی پیارے ہیں اور وہ یہ ہیں: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ العَظِیمِ۔اس حدیث کا مفہوم بھی یہی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی صفات ایجابیہ کا ذکر کرتا ہے وہ ان صفات کو اپنے اندر پیدا کر کے ان کے مقابل کی الہی صفات کو اپنے پر وارد کر لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے انعامات کا مستحق ہو جاتا ہے۔“ (تفسیر کبیر جلد اول صفحہ ۲۸۴ تا۲۸۷) تمت بحمد الله الحمد لله الحمد لله الحمد للہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح ہی آخری بات ہے کہ اس نے ہم ناچیز بندوں سے وہ کام کروادیا جو بڑے بڑے انسانوں کے بس کی بات نہیں اس کی سنت اسی طرح نظر آتی ہے کہ وہ شہتیر کا کام تنکوں سے لے کر اپنی قدرت نمائی کا ثبوت دیتا ہے جس سے مخلوق اپنے خالق کی حمد میں سُبحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ الله العظيم کا ورد کرتی دکھائی دیتی ہے۔