صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 990
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۹۰ ۹۷- كتاب التوحيد کے حامل کو عظیم کہتے ہیں۔ مثلا چھوٹی، گھٹیا بات نہیں کرنی، کسی کی دل آزاری نہیں کرنی، پیار کا سلوک کرنا ہے۔ جتنی بھی صفات روز مرہ آپ کی زندگی میں آپ کو اچھی لگتی ہیں۔ جس چیز میں، جس شخص میں پائی جائیں گی وہ عظیم ہو گا اور اگر وہ تمام صفاتِ حسنہ کسی ایک وجود میں پائی جائیں تو اس کو حقیقی معنوں میں ہم عظیم کہہ سکتے ہیں کہ بڑا عظیم انسان ہے۔ ایک لفظ عظیم میں آپ نے اس کو پتا نہیں کتنی دادیں دے دی ہیں اور حقیقت میں جب کسی انسان کا آپ کے دل پر رعب پڑتا ہے اور آپ اس کی صفاتِ حسنہ عظیم سے متاثر ہوتے ہیں۔ تو بے اختیار دل سے اس کی عظمت کا ترانہ اٹھتا ہے۔ وہ بہت انسان ہے اور وہاں کسی سے مقابلے کا مضمون نہیں ہوتا۔ اس کے مقابل پر عظیم کا سوال کبھی نہیں اٹھا نہ ذہن اس طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اپنی ذات میں گویا بے مقابلہ رہ گیا ہے وہ شخص اور مقابلے کا کوئی سوال نہیں رہا۔ سبحان الله العظیم کہہ کر یعنی سکھا کر ہمیں اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی کہ سبحان کا رستہ اختیار کرو۔ پہلے اللہ تعالیٰ کو ، ہر عیب سے بلکہ ہر غیر اللہ سے پاک خیال کرو۔ یقین کرو اس کے مضمون کو سمجھو، اس کو اپنی زبان کے ساتھ اپنے دلوں پہ جاری کرو۔ پھر تمہیں حمد کی اجازت ہو گی۔ یعنی پھر تم مجاز ہو گے اس بات کے تمہارا حق ہو گا کہ حمد بیان کرو کیونکہ گندگی کے ساتھ حمد نہیں رہ سکتی۔ ہر جگہ جہاں پاکی پیدا ہو گی اس کے ساتھ ہی حمد کا مضمون خود بخود ابھر آئے گا اور پھر تم سبحان اللہ العظیم کہو گے تو ایک نئی شان کے ساتھ کہو گے نئے عرفان کے ساتھ کہو گے۔ اللہ کی عظمت اس طرح تمہارے وجود پر چھا جائے گی کہ کسی اور وجود کا سوال ہی نہیں رہے گا۔ جب اور ہے ہی کوئی نہیں تو لا الہ الا اللہ میں جو مضمون ہے وہی عظیم کے لفظ نے وہی ان کلمتان میں ہے یعنی ان دو کلموں میں۔ میں ہے۔ اور لفظ عظیم میں اکیلا ایک عظیم رہ گیا ہے۔ کوئی اور وجو د ہے ہی نہیں تو اس کے ساتھ مقابلہ کیا کیا جائے۔ یہ وہ طریق تھا جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اپنے صحابہ کو سمجھایا کرتے تھے کہ اس طرح حمد کی جاتی ہے۔ یہ دو کلمات آپ ہی نے تو بیان فرمائے کہ خدا کو بہت پیارے ہیں اور ان میں وزن بھی بہت ہے۔ زبان پر ہلکے ہیں لیکن اس میں ایک ایک فقرے میں گہرے مضامین پوشیدہ ہیں۔ ہلکے ہیں لیکن ہلکے سمجھنانہ اور